Sliderفکرونظر

یا رب دلِ مسلم کو

سیف الرحمن

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی

ہلکی ہلکی سرد ہوائیں چل رہی تھیں، امام صاحب کی خوش الحان تلاوت بھی جاری تھی، قرآنی آیات کی گہرائیوں میں دل ڈوبا جارہا تھا… امام صاحب نے جب سلام پھیرا اور پوری مسجد اللہ اکبر،استغفر اللہ، استغفراللہ کی صدا سے گونج اٹھی، کچھ توقف سے بسم اللہ کہہ کر امام صاحب و مصلیان نے اللہ کے حضور اپنا دست سوال دراز کیا۔ تبھی میرے بائیں طرف بیٹھا ایک سفید ریش بوڑھا،سر تا پا سفید کپڑوں میں ملبوس، جلد خشک آنکھیں اندر، سانولا رنگ، اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھا کر کہنے لگا”اے اللہ رحم کر اے اللہ رحم کر، مسلمان بہت پریشان حال ہیں اس ملک میں بہت ستائے جارہے ہیں تیرے سوا کوئی مددگار نہیں جو ان کی مدد کرسکے، میرے مولیٰ رحم کر“یہ آواز کانوں میں پڑتے ہی کان کھڑے ہوگئے اور دل بیٹھنے لگا اور میں کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا اور اپنے آپ سے سوال کرنے لگا کہ میں نے خود بھی کبھی مسلمانوں کے حالات کا رونا اللہ کے سامنے رویا ہے۔میں اپنے رب سے اپنی مغفرت یا اپنے بارے میں ہی سوال کرتا ہوں۔آج کے حالات میں مسلمانوں کیلئے یا ہورہی جدوجہد کیلئے شاید ہی کبھی میں نے یہ دعا مانگی ہوگی اسی سوچ میں دیر تک ڈوبا رہا۔
یہ سوچنے لگا کہ جب میں احتجاج میں جاتا ہوں اور عمر رسیدہ حضرات کو خاطرخواہ تعدادمیں نہیں پاتا تو مجھے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ یہ کسی کام کے نہیں ہے، احتجاج تک میں نہیں جاتے۔ لیکن اس واقعہ کے بعد میں نے اپنے طرز فکر کو بدلا۔ کچھ حضرات عملی طور پر تحریکات کو آگے بڑھاتے ہیں تو بہت سے لوگ فکری و روحانی طور پر ساتھ دیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے تحریک کی حفاظت و کامیابی کیلئے اپنا دست سوال اپنے رب کے حضور دراز کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ساتھ ہی مجھے یہ بھی خیال آیا کہ ہم بہت سارے کام تو کرلیتے ہیں لیکن دعا جو کہ بہت اہم ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ہمیں دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی اس بات کی کوشش بھی کریں کہ ہر شخص کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور کسی کے بارے میں تجسس نہ کریں، ٹوہ میں نہ پڑیں۔اللہ رب العزت ہمیں اپنے حالات کا رونا اپنے حضور رونے والا بنائے اور ملک عزیز و پورے عالم میں مسلمانوں کی حفاظت اور ان کے ہورہے پامال حقوق کی حفاظت فرمائے۔آمین ثم آمین۔

()

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button