ملی مسائل

یومِ سیاہ

ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری کے نام ایک خط

ذاکر انور

بی اے آنرس اردو سمسٹر 5
جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی

 

تم امن کے دشمن ہو محبت کے ہو قاتل
دنیا سے مٹانا تمہیں ارمان ہے اپنا

ذاکر حسین لائبریری کے نام ایک خط

"پیاری لائبریری تمہارے اور تمہارے اندر سلیقے سے رکھی ہوئیں بے شمار کتب کے نام”

ہم لوگ تمہاری آہ و زاری میں برابر کی شریک ہیں، ہمیں یہ بات اچھی طرح محسوس ہورہی ہے کہ ہماری جدائی سے تمہاری آنکھیں ہر وقت پر نم رہتی ہیں اور تمہارے آس پاس مرطوب ہوا کے نیم جھونکے ہی گزرتے ہیں مگر کیا کریں کہ چہچہاتے،لہلہاتے اور دزدیدہ نگاہوں سے آپس میں ہنسی مذاق کرتے عندلیبان جامعہ نہیں ہوتے _
سنو پیاری لائبریری!! ہمیں بھی اشک خونیں اور آہ آتشیں کا وہ دن ہمیشہ یاد رہے گا کہ جس دن یعنی 15 دسمبر کی وہ کالی دھند بھری دھوئیں والی شام کو تمہارے وجود میں گھس کر تمہاری حصارِ ذات کو توڑا پھوڑا گیا، تمہیں لہو لہان کیا گیا، تمہارے سینے میں پلنے والی تمام روحوں کو مار دیا گیا، تمہیں زدو کوب کیا گیا اور تمہارے پیارے پیارے سرمائے کی آنکھوں پر مارا گیا، تمہارے معصوم جسم کو چھلنی چھلنی کیا گیا، تمہارے اعضاء و قویٰ کو توڑا گیا اور تمہاری مشام جاں کو اس طرح پھوڑا گیا کہ لہو کی بوندیں مسجدوں، رستوں اور تمہاری سفید چھاتی پر یخ بستہ (سرد) رات میں جمی ہوئی تھیں _
سنو پیاری لائبریری!! تمہاری ہچکیاں, سسکیاں،صدائے باز گشت اور ماتم کناں طبیعت کو ہم لوگ مسلسل 30 دنوں سے محسوس کر رہے ہیں اور محسوس کرتے رہیں گے کہ تم رو رہی ہو، آہیں بھر رہی ہو اور تمہارے اندر رکھی کتب تنہائیوں کے عالم میں ٹپ ٹپ آنسو گرا رہی ہیں کہ ان کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے، کوئی انہیں نہیں چھوتا، کوئی انہیں ہاتھ نہیں لگاتا،کوئی انہیں پیار نہیں کرتا، کوئی ان کے ناز نہیں اٹھاتا، ان کے اندر تنفس ہے مگر وہ زندگی سے محروم کردی گئی ہیں، ان کے اندر بات کرنے کی صلاحیت ہے پر وہ بولنے سے معذور کر دی گئی ہیں پھر بھی وہ یونہی چپ چاپ صبر کے ساتھ خاموش پڑیں اُس دن کا انتظار کر رہی ہیں کہ جس دن جب چشم افلاک بھی گواہ بنے گی کہ ظلم و بربریت اور سفاکیت کی کربناک داستان لکھنے والوں کو صفحہء ہستی سے ہمیشہ ہمیش کے لیے مٹا دیا گیا ہے اور انہیں کتب کے اوراق کے اندر آنے والی نسلیں ظلم و بربریت پھیلانے والوں کی کالی کرتوتوں کو پڑھیں گی تو ان پر تھو کریں گی اور اس داستان کو آگے بڑھاتی جائیں گی، بڑھاتی جائیں گی اور ظالموں پر بد بختی و لاچاری کی روایات سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہیں گی _
سنو پیاری لائبریری سنو!! کسے خبر تھی، کسے یہ بات معلوم تھی کہ یوں اچانک سے ہنگامی صورت حال میں ایک دوسرے سے جدا کردیئے جائیں گے اور تمہارے اور ہمارے درمیان ایک مصنوعی لکیر کھینچ دی جائے گی _
مگر اے پیاری و معصوم لائبریری سنو!! تم غم نہ کرو، دکھ نہ اٹھاؤ، تکلیف نہ سہو ، یوں سسکیاں نہ بھرو، آہ نہ نکالو ہم تمہارے ساتھ ہیں _ انتظار کرو، تھوڑا انتظار کرو کہ جلد ہی ہم تم میں ملاقات ہوگی اور پھر خوشیوں کی بات ہوگی اور تو بھی دیکھے گی اور ہم بھی دیکھیں گے اور چہار دانگ عالم بھی دیکھے گا کہ کس طرح وقت اور بخت نے موجودہ صورت حال کو خوشحال صورت حال میں تبدیل کر دیا ہے اور تو یہ بھی دیکھے گی کہ ہنسی کے نغمے سبھی لبوں پر مسکرا رہے ہیں اور ظالموں پر ہست و نیست کی کیفیت طاری ہو چکی ہے _

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button