فکرونظر

یہ بھی ہماری راہ کی دیوار ہو گئے

(ایم. ایم. سلیم)

 

خبرہے کہ امریکہ کے صدر اور ہمارے وزیراعظم نریندرمودی کے بہترین دوست ڈونالڈ ٹرمپ بھارت آنے والے ہیں، جہاں گجرات میں احمد آباد کے موتیرا اسٹیڈیم میں ان کا پروگرام ہونے والا ہے۔لیکن اسی درمیان میں ایک عجیب و غریب خبر سننے کو ملی ہے جو کہ گجرات ہی سے ہے۔ خبر یوں ہے کہ احمد آباد میونسپل کارپوریشن کی طرف سے ایک لمبی دیوار بنانے کا کام بڑے زور و شور سے جاری ہے، یہ دیوار احمد آباد ائیر پورٹ سے گاندھی نگر تک تعمیر کی جا رہی ہے۔ جوکہ تقریباً آدھا کلومیٹر لمبی اور سات فٹ اونچی بنائی جارہی ہے۔ دراصل بات یوں ہے کہ جس جگہ یہ دیوارتعمیر کی جا رہی ہے وہاں پر غریبوں کی جھگیاں ہیں اور اسی راستے سے امریکی صدر کا گزر ہونے والا ہے، جو کہ ایک روڈشو کی شکل میں ہوگا۔ امریکی صدر کی ان جھگیوں پر نظر نہ پڑے اسی وجہ سے ان کو دیوار کے ذریعے چھپایا جا رہا ہے۔
اب ذرا ہم ماضی پر نظریں دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ 2014 میں بی جے پی نے نریندر مودی کے گجرات ماڈل کا ڈنکا بجا بجا کر انہیں عوام کے سامنے پیش کیا تھا جس کی خوب واہ واہی بٹوری گئی تھی اور اسی بناء پر بی جے پی کو شاندار فتح بھی حاصل ہوئی تھی۔ اسی گجرات ماڈل کا نظارہ کرنے کے لیے راج ٹھاکرے نے جو اب نئے نئے ہندو ہردیہ سمراٹ بننے چلے ہیں اس وقت گجرات کا دورہ کیا تھا۔ اور گجرات ماڈل کی تشہیر بھی کی تھی۔
جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں پھر چاہے وہ اقتدار گجرات کا ہو یا ملک کا تب سے ہی گجرات ہمیشہ سرخیوں میں ہی رہا ہے، اگر کسی مجسمہ کی بات ہو تو گجرات، کسی ملک کے سرکاری مہمان کی آمد ہوتو گجرات، کسی میٹرو یا دیگر پروجیکٹ کی بات ہو تو گجرات، اب امریکی صدر کی میزبانی بھی گجرات ہی میں ہوگی، ٹرمپ کے حالیہ پروگرام کا نام بھی پہلے گجراتی زبان میں ”کیم چھو” رکھا گیا تھا، پھر بعد میں پتہ نہیں کیوں اسے تبدیل کرکے "نمستے انڈیا” کردیا گیا۔ وزیراعظم سے ہمارا سوال یہ ہے کہ آپ وزیراعظم پورے ملک کے ہو یا صرف ایک ریاست گجرات کے؟ ہر بات میں گجرات گجرات کہاں تک اور کتنا مناسب ہے؟

اب حالیہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورے کو ہی دیکھ لیجئے کہ کس طرح ان کے دورے کو لیکر گجرات میں بڑے زور و شور سے تیاریاں کی جارہی ہیں، ایک طرف گجرات کو چمکانے کے نام پر کروڑوں روپیہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے! تو دوسری طرف جھگیوں کو ایک لمبی دیوار کے ذریعے چھپایا جارہا ہے جہاں سے ہمارے وزیراعظم کے دوست کا گزر ہونے والا ہے، کیا کوئی اپنی ہی عوام کے ساتھ اس طرح کا بدترین سلوک کرسکتا ہے؟ صاحب آپ ْان لوگوں کے ساتھ اس طرح کا بدترین سلوک اپنا رہے ہیں جن کے ذریعہ آپ اسی گجرات کے حکمران بنے تھے اور ابھی فی الحال آپ جہاں ہیں انہی لوگوں کا سہارا لے کر آپ وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اور یہ صرف گجرات کے ان غریب جھگیوں والوں کی بے عزتی نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کی بھی توہین ہے۔

سوال یہ بھی اٹھنا لازمی ہے کہ جس گجرات ماڈل کا پوری دنیا میں آپ نے ڈنکا بجا بجا کر اپنے آپ کو پیش کیا اس سے آخر اتنا خوف کیسا؟ پھر تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ یا تو آپ سچائی چھپا رہے ہیں یا پھر پہلے سے ہی کچھ تھا ہی نہیں، سب جھوٹ اور فریب تھا۔ بس ایک ہوا کھڑا کیا گیا تھا! کیا اس طرح کی حرکت کرنا ان غریبوں سے مذاق نہیں ہے؟ اگر ٹرمپ اس راستے سے گزرتے ہیں تو گزرنے دو، آخر وہ ٹرمپ ہی ہے نا؟ نہ کہ کوئی دوسری دنیا کی مخلوق۔ اور مودی جی یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اگر آپ ٹرمپ سے کسی دیوار کے ذریعے جھگیاں چھپا رہے ہیں تو کیا امریکہ کے صدر کے پاس سیٹیلائٹ نہیں ہے؟ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے پاس تو اعلیٰ سے اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی ہے۔ اور اگر فرض کر لیجئے کبھی انہوں نے دیکھ بھی لیا تو کیا ہوگا؟ لیکن کیا کریں ، ہمارے صاحب چھپانے میں پہلے سے ہی ماہر ہے۔ پہلے بیوی چھپایا، پھر ڈگری چھپایا، اور نہ جانے کیا کیا چھپانے والے ہیں؟

کیا ہی اچھا ہوتا کہ صاحب ان غریبوں کی غریبی ہی دور کر دینے کا کام شروع کردیتے۔ جتنے پیسوں میں دیوار بن رہی ہیں اتنے ہی پیسوں میں تو ان کے گھروں کی تعمیر ہو سکتی تھی۔ مگر افسوس صاحب ایسا نہیں کر سکے۔ الٹ جن غریبوں کی وجہ سے آپ کو اقتدار ملا، آپ کو وہی لوگ برے لگ رہے ہیں۔ اور پھر جس گجرات کا آپ راگ الاپتے پھرتے ہیں یہ لوگ بھی تو اسی گجرات کے ہی ہیں نا، پھر اپنے ہی لوگوں سے اتنی نفرت کیسی؟ وہ غریب لوگ بھی سوچ رہے ہونگے کہ ہم نے ہی انہیں گجرات سے دہلی کی راہ دکھائی تھی لیکن۔۔۔
یہ بھی ہماری راہ کی دیوار ہو گئے

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button