جہان خواتین

یہ رتبہ ہے اناث الناس کا اسلام کی رو سے

سچا اور اصلی اسلام جو محمدﷺ لیکر آئے اس نے طبقہ نسواں کو وہ حقوق عطا کیے جو اس سے پہلے اس طبقہ کو پورے نوع انسانی تاریخ میں نصیب نہیں ہوئے۔

خان عرشیہ  شکیل

نالا سوپارہ

 

 

 اسلام گھر کو سماج کی اکائی قرار دیتا ہے۔ جس کی بنیاد پر معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔  اور اسی گھر کے دو بنیادی ستون شوہر اور بیوی ہوتے ہیں۔ انہی پر سماج کے بناؤ بگاڑ کا انحصار ہوتا ہے ۔ظاہر ہے جب گھر ٹوٹیں گے تو معاشرہ بھی ٹوٹے گا اسی لیے معاشرے میں عورت کی حیثیت و اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے عورت کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ عورت کو تمام برائیوں کی جڑ سمجھا جاتا تھا ۔ اس بات پر بحث ہوتی تھی آیا عورت میں روح موجود ہے یا نہیں ۔  اسے کہیں  فروخت کیا جاتا اور خریدا جاتا، تو کہیں زندہ در گور  کیا جاتا، تو کہیں اسے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا، تو کہیں ا سے شیطان کی آلہ کار سمجھا جاتا ۔ غرض عورت کا مقام جانور سے بھی بدتر تھا جبکہ اسلام نے خواتین کو اعلی مقام دیا ۔ احترام اور عزت دی۔ اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی۔ نیک بیوی کو دنیا کی بہترین متاع قرار دیا۔ بیٹی کی اچھی پرورش پر جنت کی بشارت دی ۔قران میں اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کو ایک ہی جنس بتا کر مساوات کا درس دیا۔ عائلی اور معاشرتی قوانین میں عورت کے حقوق کی پاسداری کا تذکرہ کیا تاکہ عورت کا استحصال نہ ہو ، مال جائیداد اور  وراثت کا حق دے کر اسے خود کفیل بنایا ۔”ان عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر وہی حقوق ہے جیسے مردوں کے حقوق ان پر  ( البقرہ228) ” اسلام نے عورت کو تعلیم کا حق دیا درس و تدریس اور تقریر و تحریر کی آزادی دی ۔اپنی پسند کی شادی کی اجازت دی ۔نبھا نہ ہونے کی صورت میں خلع کا اختیار دیا۔ بیوہ کی دوسری شادی کی اجازت دی ۔ اسلامی حدود میں رہ کر بوقت ضرورت معاشی جدوجہد کی آزادی دی حتیٰ کہ جہاد میں شرکت سے بھی نہیں روکا گیا۔

 شاعر مشرق علامہ اقبال کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان نہ ہوتا اور اگر میں قرآن کو اللہ کا کلام نہیں سمجھتا تو اس کے پڑھنے کے بعد یہ کہتا کہ یہ کسی عظیم عورت کی تصنیف ہے کیونکہ اس میں جس قدر عورتوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے دنیا کے کسی مذہب نے نہیں کی۔

ڈی بلائڈن رقمطراز ہیں” سچا اور اصلی اسلام جو محمدﷺ لیکر آئے اس نے طبقہ نسواں کو وہ حقوق عطا کیے جو اس سے پہلے اس طبقہ کو پورے نوع انسانی تاریخ میں نصیب نہیں ہوئے۔( بحوالہ سنت نبوی اور جدید سائنس)۔

اللہ کا ارشاد ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اچھے کام کرنے کو کہتے اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں ، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ ( سورۃ توبہ.71)۔

 آپ ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں مردوں کو تاکید کی کہ  عورتیں تمہارے زیر نگراں ہیں ان سے ہر حال میں حسن سلوک اور بھلائی کا معاملہ کرو ۔تم جو کھاؤ وہ انہیں کھلاؤ اور جو تم پہنو وہ اسے بھی پہناؤ او کسی عورت میں ضد و انسانیت کی کوئی رمق نظر آئے تو عفو درگزر سے کام لو۔ آپﷺ نے فرمایا مومنوں میں  مکمل ایمان اس شخص کا ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہو ( ترمذی )۔

 یہ رتبہ ہے اناث الناس  کا  اسلام کی رو سے

 بہو بیٹی پرلطف خاص ہےقرآن کی رو سے

 یہ کتنی رحمتیں لے کر خدا کا دین آیا ہے۔

یہ کیسی نعمتوں سے اس نے انسان کو نوازا ہے۔

لیکن دور جدید میں مذہب بیزار  رہنماؤں اور جدید تہذیب کے علمبرداروں نے خواتین کو آزادی  اور مساوات کے نام پر گھروں سے نکال کرمحفلوں کی زینت بنا دیا۔  آج بے حیائی و عریانیت زوروں پر ہے۔ہر رشتہ آج محبت سے خالی مفاد پرست بن گیا ہے ۔نئی نسل اسلام سے دور اور مغربی تہذیب کے دلدادہ بن گئی ہے ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام  کی حقیقت کو معاشرے کے سامنے پیش کرے۔ اسلامی قانون شریعت کو نافذ کرے۔ اسلامی طرز زندگی گزارے اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ اسلام نے عورت کو ایک عظیم مقام عطا کیا۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button