اسلامیات

اسواه صحابیات ۔نشان راہ

عرشیہ بنت ثناءاللّه خان (پاتور )

دین اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ہمیں پوری زندگی کا نظام دیتا ہے

یہی نہیں اگر  ہم کائنات پر بھی  غور کرے تو پتہ چلتا ہے کہ ہر شئے ایک نظام اصول اور دائرہ کار میں موجود ہے اور اپنی اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے ۔ بالکل اسی طرح عورت اور مرد کیلئے دائرہ کار بنادیاگیا کہ اپنی اپنی حدود میں اصول شرعیہ کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے زندگی کو بسر کریں۔

 یہاں یہ کہنا بلکل صحیح نہیں ہوگا کہ کسی کو فضیلت والا کام دیا گیا اور کسی کو كمتر سمجھا گیا۔۔نہیں! کیونکہ اللّه ربّ العزت نے نظام کائنات بنایا ہی اس اصول پر ہے کہ یہ دائرہ کار ایکدوسرے کے بغیر ادھورا ہے اسی لئے مرد اور خواتین جب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو اپنی باہمی سازگاری اور تعاون کے ساتھ پورا کرتے ہے تبھی مانو وہ سرکل پورا ہوتا ہے

اور ہم سبھی جانتے ہے اسلام ایک فطری دین ہے اور فطرت کو دھیان میں رکھتے ہوئے اسی حساب سے ہر کسی پر ذمّداریاں بھی ڈالی گئی ہے

مرد کو اللّه تعالیٰ نے مضبوط قوت کا مالک بنایا ہے اس حساب سے بیرون خانہ کے تمام امور اور معاش کی ذمہ داری مرد کے اوپر  ڈالی گئی ہے،اور عورت پر اندرون خانہ کی یعنی عورت کے ذمہ ہے مرد کے کمائے ہوئے مال سے اس کے گھر کو چلانا،اس کے پیچھے اس کے گھر کی اور اپنے عصمت کی حفاظت کرنا  ّ بچّوں کی صحیح پرورش اور انھیں اچّھی تربیت دینا اور گھر کے امور انجام دینا،یہ عورت کے ذمہ  ہے جس کے بارے میں ‘‘ہمیں  صحیح بخاری کی حدیث بھی ملتی ہے ’’عورت اپنے شوہر کے گھراور اس کے بچّوں کی نگران ہے اور اس دائرہ عمل میں جواب دہ ہے

اسی عمل کے فضیلت پر ہمیں  ایک حدیث بھی ملتی ہے”رسول اللّه ﷺ نے فرمایا جب عورت پانچ وقت کی نمازوں کو باقاعدگی سے ادا کرے اور اپنی عزت کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی فرماں برداری کرے تو وہ عورت جنّت کے جس دروازے سے چاہے گی جنّت میں داخل ہوجاۓ گی ۔

لیکن اس کے باوجود مذہب اسلام نے عورتوں کو اپنی  کاوشوں کو پورا کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور   مختلف پیشوں کو اپنانے سے بلکل بھی نہیں روکا مذہب اسلام نے یہاں بھی ایک معتدل راۓ اپنائی ہے

اسلام نے عورت کو اسکے فطری دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کی پوری اجازت دی ہے ۔

 لیکن افسوس کی بات ہے مذہب اسلام کی طرف سے ملی اجازت کا تو خواتین نے فائدہ اٹھایا مطلب کہ آج کی خواتین پروفیشنل لائف میں تو آگے بڑھتی نظر آرہی ہے لیکن اس پر جو امورخانہ کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اس میں لاپرواہی برتّی   دکھائی دے رہی ہے

 اور وجہ اس کی یہی ہے کہ مسلم لڑکیوں اور عورتوں نے اپنی صحابیات کو چھوڑ غیر مسلم اور ان عورتوں کو اپنا رول ماڈل بنا رکھا ہے جن کی جھوٹی شان اور شوہرت نظر آتی ہے جن کا مقصد زندگی دنیا کے ہی پیچھے بھاگنا ہے

ہاں!تلخ ہے مگر سچّائ یہی ہے،اسی لئے تو دینی تعلیم میں نہیں بلکہ کثیر تعداد میں مسلم لڑکیاں عصری تعلیم میں آگے بڑھ ڈاکٹر،ٹیچر،انجنیئر بنتی  نظر آرہی ہے اور جو دسترس دینی تعلیم کو حاصل تھا وہ ختم ہوتا جا رہا ہے ۔

پیاری بہنوں! اللّه ربّالعزت کا ہم پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا فرمایا،اس کا جتنا شکر ادا کیا جاۓ اتنا کم ہے اور اصل شکر تو وہی ہے جو ہمارے عمل سے ظاھر ہو،مسلم ہونے کا ثبوت ہم اپنے عمل سے دے۔

دین اسلام نے ہمیں جن چیزوں کی اجازت دی ہے اس سے ضرور فائدہ اٹھاۓ لیکن خواتین اسلام پر جو فرائض اور ذمہ داریاں عائد کی اسے بھی تو احسن طریقہ سے پورا کرے۔

اس بات سے تو ہم تمام ہی خواتین واقف ہونگی کہ اللّه ربّالعزت نے عورتوں میں یہ خصوصیت بھی رکھی ہے کہ وہ گھریلو ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ۔دوسری ذمہ دارياں بھی با خوبی نبھا سکتی ہے

تاریخ خود گوہ ہے اس بات کی

اسلامی تاریخ میں ہر شعبہٴ زندگی میں خواتین کا نمایاں کردار نظر آتا ہے

صحابیاتؓ کی زندگیوں کا گر ہم  مطالعہ کرے تو  یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپؓ نہ صرف سلیقہ شعار گھریلو خواتین ثابت ہوئی بلکہ باكردار پروفیشنل خواتین کی حیثیت سے معاشرہ کی کامیاب رکن بھی بنکر دکھایا،آپؓ ہر میدان میں بہترین کردار ادا کرتی نظر آئ ہے چاہے وہ تعلیمی میدان ہو چاہے عملی یا امور خانہ داری ہو چاہے مختلف شعبے  ۔۔۔۔

حضرت خدیجہ آپ کو کون نہیں جانتا ہے؟؟ہمارے آخری  نبی حضرت محمّدؐ کی پہلی زوجہ۔۔جنہوں نے اپنے شوہر اور دین کی خاطر وہ سب کچھ کیا جو وہ کرسکتی تھی۔

 کہا جاتا ہے والد کی جنگ میں وفات کے بعد حضرت خدیجہ نے کاروبار کو سنبھال لیا حقیقت میں انکی کاروباری ذہانت نے ہی انھے اس راستے پر ڈالا جس نے آگے چل کر دنیا کی تاریخ بدل دی، وہ اپنے وقت کی بہت ہی بڑی تاجرہ گزری جن کا مال باہر ملکوں تک میں جایا کرتا یعنی اگر آج کی زبان میں کہا جاۓ تو وہ ایک انٹرنیشنل بسنیس وومن  تھی ،بہت ہی ناموار پھر جب آپؐ سے آپ کا نکاح ہوا تو فرماں بردار بیوی بھی ثابت ہوئی ہر طرح سے اپنے شوہر کا ساتھ دیا آپؐ کی پسند نا پسند کا پورا خیال رکھا اور اپنی ازدواجی زندگی کو بہت ہی آسان اور سکون بھری بنانے میں کامیاب ہوئی ۔

آپ حق شناس خاتون تھی اسی لئے آپؐ پر ایمان لانے والی سب سے پہلی خاتون گزری ،مختلف خداؤں کی عبادت کرنے والے معاشرہ میں جب نبیؐ ایک خدا کی عبادت کی دعوت کو لیکر اٹھے تو آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی بہت مخالفت ہوئی ،اس موقعے پر حضرت خدیجہ نے وہ حمایت اور تحفظ فراہم کیا جس کی نبیؐ کو اشد ضرورت تھی ۔

حضرت خدیجہ نے اپنے خاندانی تعلقات اور اپنی دولت کے ذریعے اپنے شوہر کی بھرپور مدد کی  آپ نے اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی مدد کے لئے اپنی دولت خرچ کرکے اللّه کے رسولﷺ کے حق کی راہ میں اپنی پوری دولت کو قربان کردیا، اور اسلام کی ترقی کے لئے ناقابل انکار کردار ادا کیا ،حضرت خدیجہ نے زندگی کے آخری دنوں تک اپنے شوہر اور اسلام کی حمایت اور مدد کے لئے وہ سب کچھ کیا جو وہ کرسکتی تھی ۔۔

حضرت عائشہؓ ایک مسلمان عورت کے لئے سیرت عائشہؓ میں زندگی کے تمام پہلوں شادی،رخصتی،شوہر کی اور بھی بیویوں سے تعلقات،غربت، خانہ داری،بیوگی۔ ۔۔۔غرض ہر حالات کے لئے تقلید کے نمونے موجود ہے

آپؓ کا قوت حافظہ بہت زیادہ تھا،آپ دینی لحاظ سے عائد ہونے والی ذممداری کو نبھانے کا بہت احساس رکھنے والی خاتون تھی،آپؓ صرف احادیث روایت کرنے والی ہی نہیں بلکہ فیقه،مفسّرہ اور مجتہدہ بھی تھی،شاعری،سائنس،طب اور تاریخ و فلسفہ پر آپکو بڑا عبور حاصل تھا آپ بہت بڑی سکالر تھی۔

آپؓ نے اپنی پوری زندگی عورتوں اور مردوں میں اسلام اور اسکے احکام و قوانین اور اسکے اخلاق و آداب کی تعلم دینے میں صرف کرکے اسلام کی بیش بہا خدمات انجام دی،حضرت عائشہؓ کے ذریعہ سے جتنا علم دین اور فیقه معلومات مسلمانوں کو حاصل ہوئی کوئی اور آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔آپ کی علمی کاوشیں سب سے زیادہ متاثر کن ہے

آپؓ کی اپنی کوئی اولاد تو نہیں تھی لیکن معاشرہ اور امّت کے لئے کار آمد نسل تیار کرنے کا شعور اور احساس رکھنے والی خاتون تھی،آپ دوسروں کے بچّوں کی اپنے اوپر ذمّداری لیکر انکی تعلم و تربیت بہترین نہج پر کرتی،مسلم خواتین کے اوپر  اللّه ربّ العزت کی طرف سے امّت مسلمه کے لئے صالح افراد تیار کرنے کی جو بڑی ذمّداری عائد ہے آپؓ کی اپنی کوئی اولاد نہ ہونے کے باوجود اس ذمّداری کو بہت ہی خوش اسلوبی اور شعور و فکر کے ساتھ ادا کرتی،

مفكر حضرات لکھتے ہے "آٹھ ہزار سے بھی زیادہ صحابہ رضوان اللّه علیھم آپؓ کے شاگرد گزرے تمام مسلمان خواتین کے لئے انکے کردار کا یہ پہلو ایک بہترین سبق رکھتا ہے کہ آج کی مائیں اپنی اولاد کی تربیت کے لئے اتنا ہی اخلاص رکھتی ہے یا نہیں ؟؟

حضرت زینبؓ دستکاری کا کام کرتی،اور وہ  یہ اپنے کسی ضرورت کے لئے نہیں بلکہ اس سے پیسے حاصل کرکے ساری رقم ضرورت مندوں اور مستحقین پر صدقہ کرنے کے لئے کرتی حضرت ام صبیہؓ اور عہد رسالت کی خواتین چرخہ کاتتی اور كهجور کے پتوں سے چیزیں  تیار کرتی مدینہ منورہ میں انصار کی تمام عورتیں کاشتکاری کرتی اور خاص طور پر سبزیاں بوتی تھی مدینہ کی زندگی میں عورتوں کے کثرت سے واقعات ملتے ہے کہ عورتیں نہ صرف گھر کا بلکہ باہر کا بھی اکثر کام کرتی تھی ۔

مرد زیادہ تر دین کی تبلیغ اور جہاد فی سبیل اللّه میں مشغول رہتے تھے گھر کی ذمہ داریوں کے لئے انکے پاس وقت نہیں رہتا تھا اسی لئے وہ اللّه کی نیک بندیاں گھر کی دیکھ بھال بھی کرتی اور اخراجات کے لئے ذراعت،باغبانی، چرخہ کاتنا،مویشی جانوروں کی دیکھ بھال ۔۔یہ سارے کام بھی سنبھالتی تھی اور اپنے مردوں کے لئے آسانیاں فراہم کرتی تھی۔

ہماری ایسی بہت ساری صحابیات کا بھی ذکر ملتا ہے جو ڈاکٹر، اور نرسنگ جیسے پیشے میں بھی تھی،

 تحقیق کاروں سے پتہ چلتا ہے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام اطاع رضی اللہ عنہا، حضرت اسلمیہ رضی اللہ عنہا، حضرت بنت حجش رضی اللہ عنہا، حضرت معاذ لیلی رضی اللہ عنہا، حضرت امیمہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام زیادت ربیع رضی اللہ عنہا، حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور بھی ایسی بہت ساری صحابیات جنہیں طب اور جراحت میں  زیادہ مہارت حاصل تھی اور اپنی اس صلاحیت کو وہ  خدمت خلق میں لگاتی وہ نبیؐ کے ہمراہ جنگوں اور غزوات میں جاتی زخمیوں کی مرہم پٹّی کرتی اور بیماروں کا علاج معالجہ اور انکی تیمارداری کرتی تھی، انہی میں سے کچھ جنگ کے میدان میں مشکیزے بھر بھر کے لاتی  مجاہدین کو پانی پلاتی اور انکے لئے کھانا بناتی ۔

بعض خواتین میدان جنگ سے باہر بھی یہ خدمات انجام دیتی تھی ۔قبیلہ اسلم کی ایک خاتون  جس کا نام رفیده تھا اس نے مسلمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا چنانچہ مسجد نبوی میں انکا خیمہ بنا ہوا تھا جہاں وہ زخمیوں کی مرہم پٹّی اور علاج کرتی (یعنی آج کے دور کے حساب سے کہا جاۓ تو وہ ایک ڈاکٹر تھی اور انکا اپنا كلینیك بھی تھا)

ہماری بہترین مائںیں اور بہنیں  یہ ساری خدمات دین حق کی سر بلندی اور دین کے محافظوں کی رفاقت و تعاون کے لئے انجام دیتی۔

وہ ایسی پراعتماد خواتین تھی جنہوں نے خانگی فرائض کے ساتھ پروفیشنل لائف میں ہی کامیاب ہوکر نہیں دکھایا بلکہ اپنے دین کے لئے قربانیاں دینے میں بھی پیچھے نہیں رہی،تاریخ بھری پڑی ہے  ہماری پاک دامن ماؤں اور بہنوں کی بے مثال قربانیوں اور خدمات سے۔۔۔

 وہ ایمان اور تقویٰ سے لبریز خواتین اسلام نے دین حق کو غالب کرنے میں آزمائشوں اور مصیبتوں کو برداشت کیا،تقویٰ کے ساتھ دین حق پر ثابت قدم رہی،کفر کے خلاف جہاد کیا ،گھر بار چھوڑا،وہ ایک عورت ہی تو تھی جو اسلام کی پہلی شہیدہ کہلائی۔

 وہ باہمّت اور حوصلہ مند خواتین اسلام  آخری وقت تک اپنے رب کی وفادار اور اسلامی شریعت کی پاسدار رہی

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب عورتوں اور مردوں دونوں ہی نے باہمی سازگاری کے ساتھ اپنی اپنی ذمہ داريوں کو نبھایا تو کیسا بہترین معاشرہ تشکیل پایا ۔

اب وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں، ایک بار پھر اپنے مقام کو سمجھ کر اپنی ذمہ داریاں اور فرائض کو نبھانے کے لئے اٹھ کھڑی ہو اپنے علم اور صلاحیتوں کو اللّه کے دین کے نفاد کے لئے كهپادینا ہی ایک مومن کی زندگی کا اولین مقصد ہے

اس بات کو سمجھ کر مسلمان خواتین نے جس طرح  مثالی کردار ادا کیا آج ضرورت ہےاسی طرح آج کی مسلمان خواتین  قانون شریعت کی حفاظت میں اپنا بھرپور انقلابی کردار ادا کریں ۔

پیاری بہنوں ہماری صحابیات ہی ہماری رول ماڈل ہے

رول ماڈل تو وہ ہوتا ہے نا ؟؟؟ جس کے نام کے ساتھ کامیابی کا ٹیگ لگ جاۓ اور ویسی ہی کامیابی پانے کے لئے فولّورس اس کے نقش قدم پر چلے ۔

تو ہمارے صحابہ و صحابیات سے بڑھ کر کون کامیاب ہوگا،جن کے نام کے ساتھ رضی اللّه عنہ یا عنھما کا ٹیگ لگا ہو،یہ وہ ٹیگ ہے جو بتاتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہے جنہوں نے اپنی محنت و کوششوں سے اس فانی دنیا ہی میں نہیں بلکہ ہمیشگی والی آخرت میں بھی کامیابی اپنے مقدر کی ہے ۔

آئیے انہیں کی زندگیوں کو مشعل راہ بناكر ہم بھی اس حقیقی ٹیگ کو پانے کی کوشش کرے۔

اللّه سے دعا ہے "ہم خواتین اسلام کے اندر  راہ عمل میں ہماری صحابیات ہی کی طرح ذوق و شوق اور اپنے ایمان میں ثابت قدمی عطاء فرمائے

آمین

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button