اسلامیات

ایک قدم قدرت کی جانب

فرحانہ انجم بنت شیخ احمد عزیزی
آکولہ ،مہا راشڑ

 

آج دنیاجسں مالی،جسمانی،معاشی،ذہنی،بحران کا شکار ہیں ہم سبھی اس سے واقف ہیں۔اس کے اسباب اور تدارک کیا ہونے چاہیے ؟ کچھ اسباب تو قدرتی ہیں اور کچھ اسباب انسان کی پیداوار ہیں ان دونوں اسباب پر انسان کچھ حد تک قابو پا سکتا ہے آج جو بیماریاں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جن کے نام سے بھی ہم واقف تک نہیں ہیں کیا یہ بیماریاں ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں تھی؟ نہیں نا ؛ تو پھر ہم اپنی طرز زندگی ، اپنے آس پاس کے ماحول پر نظر کیوں نہیں دوڑاتےکیوں ہم آنکھ بند کر کے بس ڈاکٹروں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی اور صحت جیسی انمول نعمت کو برباد کر رہے ہیں۔۔؟دور قدیم اور دور جدید کا موازنہ کرے تو کچھ باتیں ہمیں سمجھ میں آتی ہے جس کی وجہ سے آج ماحول آلودہ ہو گیا۔سائنس کی ترقی نے انسان کو نکما اور سست بنا دیا ہے ۔۔حالانکہ یہ ترقی بھی ضروری ہے مگر انسان ان مشینوں کا محتاج ہو کر رہ گیا ہے کوئی جسمانی محنت نہیں اور نا ہی جسم سے فاضل مادے باہر آرہے ہیں سواریاں ایسی کہ انسان ایک قدم بھی نہیں چل پا رہا ہے قدیم دور میں لوگ پیدل یا سائیکل کے ذریعے راستوں کو عبور کیا کرتے تھے ۔۔

جس سے ان کی جسمانی ایکسرسائز ہو جایا کرتی تھی اگر آج ہم اپنے بزرگوں کو دیکھے تو ،ان کے سامنے ہم بزرگ نظر آتے ہیں اگر آج کوئی ہمیں سائیکل پر نظر آ جائے تو ہم پلٹ پلٹ کر اسے دیکھتے ہیں اس پر طرہ یہ کہ کھانے کی ہائی بریٹ چیزیں ، جو کیمیکل سے راتوں رات بڑی کی جاتی ہےجس سے انسانی جسم میں ہارمونز پر کافی برا اثر پڑ رہا ہے ہر چیز میں ملاوٹ، ڈبہ بند چیزیں ، ہوٹل کے کھانے، مصالحے دار پکوان ، کولڈ ڈرنک، چائنیز فوڈ ، سبزیوں اور دالوں کا استعمال نہ کرنا یہ سب اسباب ہیں جو انسان کو کم عمری میں بہت ساری بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں شوگر ،بلڈ پریشر، تھائرائڈ ، بواسیر fats، دل کے امراض ،کینسر وغیرہ وغیرہ اسباب تو بہت ہیں جو بیان نہیں کیے جا سکتے تدارک کیا ہیں؟ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ایک قدم قدرت کی جانب بڑھانے کی ضرورت ہےقدرتی اجزاء ،پھل، سبزیاں، زیادہ سے زیادہ استعمال کیجئے کھانا اسی وقت کھائے جب بھوک لگی ہو اور بھوک سے دو لقمے کم ہی کھائیے یہ تو سنت بھی ہے

لاک ڈاؤن نے اور بھی زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے گھر بیٹھے بیٹھے اور زیادہ بیما ریوں نے حملہ کیا ہےاب لاک ڈاؤن کا رونا نہیں رونا ہے بلکہ اس میں بھی کچھ لائحہ عمل تیار کرنا ہےکہ کس طرح ہم اپنی زندگی کو صحت مند زندگی میں بدل سکتے ہیں۔
گارڈننگ کیجئے آج شہروں میں آنگن نہیں ہے تو ہم اپنی یہ خواہش کس طرح پوری کرے؟؟اپنے کمروں کی بالکنی یا پھر کھڑ کیوں یا ٹیرس پر ہم چھوٹے چھوٹے پودے لگا سکتے ہیں اور وہ پودے لگائیں جو ہماری روز مرہ زندگی میں میں کام بھی آ سکے جیسے تلسی، کڑی پتہ، پودینہ، ہری مرچ، ٹماٹر،ثمار وغیرہ یہ کم جگہ میں لگا سکتے ہیں اور اپنے کچن کو بھی آباد رکھ سکتے ہیں اگر بارش کے موسم میں کہیں سفر پر جانا ہو تو بڑے درختوں کے بیج ضرور ساتھ رکھے جیسے آم ، جا من، سیتا پھل، نیم وغیرہ اور اس کو کھلی جگہوں پر پھینکتے جائیں کب یہ یہ بیچ تناور درخت بن جائیں گے آپ کو پتا بھی نہ چلے گا اور یہ تمام پیڑ پودے آپ کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہونگے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’درخت لگانا ایسی نیکی ہے ،جو بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔۔ جبکہ وہ اپنی قبر میں میں ہوتاہے‘‘
بچوں کو اس کام کا عادی بنائیں انہیں یہ کام کر نے پر انعامات سے نوازےپودوں کی دیکھ بھال، ان کو پانی دینایہ سب وہ خوشی خوشی کرلیں گے اور ان کے وقت کا ضیاع بھی نہ ہوگااسی طرح پانی جو کہ ایک انمول نعمت ہے، آج بارش دن بدن کم ہوتی جارہی رہی ہے اس کے لیے شجر کاری بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے اسی کے ساتھ ساتھ ہر گھر میںRain water Harvestingکا نظم ہو ۔۔اور استعمال شدہ پانی زمین میں جاکر، فلٹر ہو کر پھر سے ہمارے استعمال میں آ سکے۔
خاص طور پر جو کوئی تعمیر ہو رہی ہووہاں پر یہ نظم نقشہ میں ضرور موجود ہوبچوں کو بھی ہفتے میں ایک دن پیڑول نا استعمال کرنے کی ترغیب دیجئے پیدل یا سائکلنگ کے ذریعے وہ دن گزارنے کو کہیے یہ چند تدابیر ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعا لی ہم سب کو قدرت کی طرف پلٹنےکی توفیق دے ۔
آمین

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button