Sliderاسلامی معاشرہجہان خواتین

بہو کے ساس سسر سے تعلقات

ذکیہ  بیگم

(لنگسگور، ڈسٹک رائچور)

دور حاضر میں امت مسلمہ جس طرح مسائل سے دوچار ہے۔ اس کی وہ خود ذمہ دار ہے چونکہ  وہ اللہ کے  قوانین کو  فراموش کر رہی ہے اور  حقوق العباد سے منہ پھیر رہی ہے۔

 آج کل ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ کتنے اولڈ ایج ہوم بنائے جارہے ہیں۔ اس کے  ذمہ دار ہم خواتین ہیں۔  بہو اسلام کا یہ اچھا بہانہ بناتی ہے کہ ہمیں کوئی فرض یا سنت یا کوئی بھی حکم نہیں ہے کہ ہم انہیں یعنی ساس سسر کو دیکھے بیٹے کو دیکھنا رہتا وہ بیٹا آپ کا شوہر ہی تو ہے لیکن وہ تو باہر   کمانے  جاتے ہیں جب ان کی بیوی نہ دیکھنے کی وجہ سے ہی اپنے ماں باپ کو اولڈ ایج ہوم چھوڑ کر آ جاتے ہیں بہو ہیں اگر اپنی ساس سسر کی خدمات کرے تو کتنا اچھا رہتا۔

بہت سے لوگ کرتے ہیں جو نہیں کرتے ان کہ لئے کرتے ہیں آپ کو وہ آپ کے ماں باپ جیسے تو کبھی نہیں لگیں گے آپ اپنے شوہر کی آخرت کے لئے ہی سہی ان کی خدمات کرنی چاہیے کل قیامت میں کچھ آپ کو نہیں ہوگی آپ کے شوہر کو تو ہو گی نا۔

ماں باپ اپنے چاروں بچوں کو اچھی دیکھ بھال کرتے ہیں انہیں اچھے سے اچھا پڑھاتے ہیں پہناتے ہیں یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں شادی کے بعد ان کے ماں باپ ان کو بوجھ لگنے لگتے ہیں چار بھائیوں میں اس بات کو لے کر لڑائی ہوتی رہتی ہے کہ میرے پاس اتنے دن تھے میں ہی سب خرچہ اٹھایا ہو اب تم لے جاؤ اپنے کبھی سوچا ہے انہیں کتنی تکلیف ہوتی ہو گی بڑھاپے میں انھیں اولاد کی ہی ضرورت ہوتی ہے ساری زندگی وہ آپ کے لیے ہی جیتے رہتے ہیں۔

بہو یہ اپنے شوہر کی ماں باپ کی خدمت تو نہیں کرنا چاہتی لیکن چاہتی ہے یہ کہ وہ اپنے بھائی کی بیوی اپنے ماں باپ کو اچھے سے دیکھے ان کی خدمت کرے۔

 اسلام میں کتے کو پانی پلانے پر اتنا بڑا اجر ملتا ہے پھر بھی ہم نہیں سمجھتے جب ہم انسان کے ساتھ رحم دلی سے پیش آئیں گے تو اللہ تعالی ہمیں کتنا اجر دیں گے۔

آپ خدمت کرنے کے بعد بھی آپ کو دنیا والے باتیں کر رہے ہیں تو آپ مایوس مت ہو ئی ہمارے اعمال ہماری نیت اللہ تعالی دیکھ رہا ہے وہ آپ کی نیت یوں ہی جانے نہیں دیں گے گے اس کا اجر آپ کو کل قیامت میں تو انشاءاللہ ضرور ملے گا معنی وہ تھوڑا سخت قسم کے ہوتے ہیں غصہ کرتے ہیں ہم اپنے ماں باپ کے گھر سے لاڈ پیار سے آئے رہتے ہیں ان کی باتیں ہمیں کڑوی لگتی ہے ہمیں برا لگتا ہے۔ یقین جانئے ان کے دل میں بہو کے لیے پیار بھی ہمیشہ رہتا ہے ان کے برے برتاؤ کو نظر انداز کرکے ہمیں ان کی اچھائیاں یاد کر لینا چاہیے ہمیشہ ان کے ساتھ اچھے سے رہنا ان سے دل کا رشتہ جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہم مانتے ہیں کہ  ساس، سسر  کی خدمت  نا فرض ہے نہ سنت۔ لیکن احسان کا معاملہ رکھا جائے تو  یہ ہمارے مرتبہ کو  بلند کرتا ہے  نہ کے کم۔ ضرورت اس بات کی ہے  کے ہم اسلامی معاشرے میں حقوق اللہ کے ساتھ  حقوق العباد کی ادائیگی کی کوشش کریں۔ اور نیکیوں میں  سبقت  لیجئے کے موقع کو غنیمت جانیے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button