اسلامی معاشرہ

رشتوں میں فاصلے اور دوریاں

انسانی رشتے اور خاندانی تعلقات نازک ترین شے ہیں اور انہیں مضبوط بنانے، قائم رکھنے اور نبھانے کے لئے ایثار وقربانی،عفو و درگذر پہلی شرط ہے

شاہ مدثر،عمرکھیڑ

(ایڈیٹر افکارِ نو دہلی)

 

انسانی زندگی میں رشتوں کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ایک انسان زندگی میں بہت سارے رشتے ناطوں سے بندھا ہوتا ہے۔ہمارے درمیان جو بھی رشتے قائم ہوتے ہیں وہ سب اللّٰہ تعالیٰ کا بہترین عطیہ ہے۔لیکن افسوس کہ آج ہم سب زندگی کے مسائل، مصائب اور مشکلوں میں پھنس کر اپنے والدین، بہن بھائیوں اور انسانی رشتوں کی قدر و منزلت سے محروم ہوتے جارے ہیں ۔مخلص رشتوں کی بنیاد اس پہلی اینٹ کی مانند ہوتی ہے جو اگر ٹیڑھی رکھ دی جائے تو دیوار بھی ٹیڑھی ہی تعمیر ہوتی ہے۔کبھی کبھی رشتوں میں اتنی غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں کہ ہم سمجھ ہی نہیں پاتے پہلے کس کو دور کریں اور یہی سوچتے سوچتے غلط فہمی تو نہیں لیکن ہم خود ایک دوسرے سے ہمیشہ کے لئے دور ہوجاتے ہیں۔درحقیقت رشتے احساسات سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر انسان کے اندر سے احساس ہی ختم ہو جائے تو پھر رشتوں کو ٹوٹتے اور بکھرتے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض گھرانوں میں چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے رشتوں کو سرے سے ختم ہی کردیتی ہیں ۔ ذرا ذرا سی بات کو رائی کا پہاڑ بنادیا جاتا ہے یعنی معمولی معمولی باتیں رشتوں میں بدگمانی کے ایسے سوراخ کردیتی ہیں کہ انسان تمام عمر وضاحتوں کی رٹیں لگاتا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان خوبصورت اور حسین رشتوں کو ٹوٹنے سے کوئی بچا نہیں پاتا۔اکثر رشتے اور تعلقات انا کے ٹکرائو اور انا کے باہمی تصادم سے ٹوٹتے ہیں۔کسی کے نزدیک اپنی اَنا رشتہ داری سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔کچھ لوگ اپنی اَنا کی خاطر رشتوں کو توڑتے ہیں یا تمام باتوں کو بھلا کر نئے سرے سے رشتے کو استوار کرنے سے دور بھاگتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے اندر غلط فہمیاں پیدا کرلیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے صدیوں پرانے رشتوں میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں اور پل بھر میں ہی رشتہ ختم ہوجاتا ہے۔درحقیقت رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات برداشت کرنے میں ہوتی ہے جب انسان زندگی میں برداشت کرنا اور نظر انداز کرنا سیکھ لیتا ہے تو بہت سی ایسی پریشانیوں سے بچ جاتا ہے جو صرف ہمارے منفی رویوں کی وجہ سے ہمیں بھگتنی پڑتی ہیں۔لیکن افسوس آج ہم سبھی کے اندر سے برداشت کی قوت رخصت ہوچکی ہے۔آج ہمارے لئے کتنا آسان ہوچکا ہے کہ کسی رشتہ کو خود غرضی اور مطلب پرستی کا نام دے کر اس سے بے رُخی برت لی جائے۔۔۔عقلیں شعور سے خالی ہوچکی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج انسانی اور خونی رشتے بیکھرتے جارہے ہیں،کچھ لوگ پرانی باتیں بھُلاکر نئے سرے سے رشتے کو استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن سامنے والے کی بے رخی پھر ایک مرتبہ کہیں نہ کہیں تعلقات میں رکاوٹ بنی رہتی ہے۔۔عفو و درگزر کرنے والے کامیاب ہوجاتے ہیں۔اور جو اپنے زعم میں مبتلا رہتے ہیں وہ اکثر ناکامیابی کا شکار رہتے ہیں۔رشتوں کو ٹوٹ کر بکھرنے سے بچانے کیلئے وہی انسان جھکتا ہے جسے رشتوں کی قدر کرنی آتی ہے اور جنہیں رشتوں کو نبھانے کا شعور بھی ہو۔اکثر اپنوں کی خوشی کی خاطر ظرف کا پیمانہ بھی بلند کرنا پڑتا ہے۔دوریاں اور فاصلے پیدا ہونے کے بعد عاجزی، انکساری اور خلوص سے ہی دوبارہ رشتوں کو استوار کیا جاسکتا ہے۔ اکثر ہمارے غلط رویوں سے رشتے کمزور پڑھ جاتے ہیں۔لیکن ان رشتوں کو پھر سے مضبوط کرنے کا ہنر بھی ہمیں آنا چاہیے۔
عفو و درگذر سے کام لینا اور پرانی باتوں کو نظر انداز کرنا ایک دوسرے کے دلوں کو صاف رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اگر ہماری زندگی سے اعتبار کا پرندہ ایک بار اڑ جائے تو پھر وہ زندگی بھر لوٹ کر واپس نہیں آتا۔آج کئی گھروں میں یہ حال ہوچکا ہے ایک دوسرے کی آنکھوں میں بسنے والے اب ایک دوسرے سے آنکھیں چراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔زبانیں بند رہتیں ہیں لیکن اشاروں میں باتیں ہوتی ہیں۔ محبت اور خون کے رشتے اب دشمنی اور انتقام کے بندھنوں میں صاف بدلتے نظر آرہے ہیں۔ میرے خیال سے انسانی تعلقات اور خونی رشتوں سے زیادہ کوئی شے ناپائیدار، کمزور اور نازک نہیں ہے۔۔۔ ہاں! میری نظر میں وہ رشتے سب سے زیادہ مضبوط ہیں جن میں ایثار و قربانی،عفو و درگذر پایا جاتا ہو۔جو انسان معذرت اور درگذر کی خوبی سے محروم ہو وہ سخت دل ہوتا ہے اور سخت دل انسان اپنی فطرت میں سنگدل ہی نہیں بلکہ ظالم بھی ہوتا ہے جسے ظلم کر کے خوشی ملتی ہے اور اس سے اس کی انا کی تسکین ہوتی ہے۔زندگی کی خوبصورتی رشتوں کی بدولت ہے۔رشتوں سے کنارہ کشی کرنا نہ صرف اپنے ساتھ زیادتی ہے بلکہ دوسروں کے ساتھ بھی زیادتی سے کم نہیں کیونکہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت رشتہ داری ہی تو ہے۔ انسان رشتوں کے بغیر نامکمل ہوتا ہے۔کبھی کوئی رشتہ انسان کو رنج و غم دیتا ہے تو وہی رشتہ کبھی اسے خوشی و سہارا بھی دیتا ہے۔ جس طرح انسان کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح انسان کو رشتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے اسلئے رشتوں کو بنانا، نبھانا اور ان کو لیکر چلنا ایک عقلمند انسان کی نشانی ہے۔ رشتے نہ دور رہنے سے ٹوٹ جاتے ہیں نہ پاس رہنے سے جڑتے ہیں بلکہ یہ تو اعتماد اور خلوص کے پکے دھاگے سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ رشتے توجہ ، قربانی اور وقت دینے سے مضبوط ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی میں ان رشتوں کو بھی ساتھ لیکر چلنا چاہئے جن کے بغیر زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ ہماری زندگی ان رشتوں کے بغیر ادھوری ہے ۔انسانی رشتے اور خاندانی تعلقات نازک ترین شے ہیں اور انہیں مضبوط بنانے، قائم رکھنے اور نبھانے کے لئے ایثار وقربانی،عفو و درگذر پہلی شرط ہے۔ لہٰذا رشتوں کو نئے سرے سے استوار کیجئے۔ غلطیوں اور لغزشوں کے بعد اپنا احتساب کرکے رشتوں کے معاملے میں عفو و درگذر سے کام لیجئے۔۔جو رشتے نبھاتے ہیں وہ اعتماد جیتے ہیں۔۔جو نرم خو اور نرم طبیعت ہوتے ہیں وہ دوستیاں اور رشتہ داریاں بلا تکلف نبھاتے ہیں اور وہ جو سخت دل ہوتے ہیں وہ ہمیشہ دل سے دور اور نظر سے دور رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں انسانی اور خونی رشتوں کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button