اسلامیات

سیرت صحابیاتؓ سے ہم نے کیا سیکھا؟

خولہ حسن بنت اعجاز، دہلی

بقائے اسلام اور اسلام کی سربلندی میں جہاں مردوں کی قربانیاں قابل ذکر ہیں ہیں وہیں تواریخ خواتین کی قربانیوں سے بھری پڑی ہیں ہر میدان میں وہ مردوں کے شانہ بشانہ نظر آئی ہیں جنگ کا میدان ہو یا تجارت،تعلیمی میدان ہو یا حکمت کسی طور یہ مردوں سے پیچھے نہیں رہی ہیں۔

لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کے جو حقوق اسلام نے عورتوں کو فراہم کیے ہیں وہ کسی دوسرے مذاہب میں نہیں ملتی  ۔

ظہور اسلام سے قبل اگر ہم نظر ڈالیں تو  پوری دنیا کی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی، سیاسی اور علمی حالت نہایت ابتر تھی دنیا طرح طرح کی بداطواریوں اور نا ہمواریو کی شکار تھی جس میں عورتوں کے حقوق کی عدم موجودگی بھی تھی۔

معاشرے میں عورتوں کے ساتھ بدسلوکی عام تھی

ان کے ساتھ انسان سوز سلوک روا رکھے جاتے تھے

 

  خواتین کے معاشرتی و اخلاقی حقوق پامال کیے جاتےتھےلیکن پھر کرہ ارض پر ایک عظیم اور انقلاب آخری آیا

اور الله نے حضور ﷺ کو  سارے جہان اور ساری مخلوق کے لیے بطور رحمت بنا کر بھیجا۔

  جہاں حضور ﷺ نے ہر ظلم جبر کا صفایا کیا وہیں عورتوں کو اس ذلت و پستی کے گڑھے سے نکالااسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کی عظمت کو اور حقوق کو دنیا کے سامنے  پیش کیا۔

   لیکن دوسرے پہلو پر اگر غور کیا جائے اور تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھا جاۓ تو جب جب اسلام کو قربانیوں کی ضرورت پڑی ہے وہی عورتیں ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ قربانیوں کی راہ میں ڈٹ گئیں اور شجر اسلام کو اپنے لہو سے سینچا ہے تو یہ بات بھی واضح ہے کہ آفتاب اسلام کی کرنوں کو دنیا کے ہر گوشے تک پہنچانے کے لیے لاتعداد قربانیاں دی گئی ہیں جس میں صحابیات بھی پیش پیش رہی ہیں مردوں کے شانہ بشانہ قربانیاں دی ہیں

   کہا جاتا ہے عورتیں کمزور ہوتی ہیں لیکن میرے ناقص فہم کے مطابق عورت کمزور ہو سکتی ہے لیکن ایک مومنہ کمزور نہیں ہو سکتی ایک مجاہدہ کمزور نہیں ہو سکتی۔

گر ماضی کے اوراق کھنگالا جاۓ تو ایسی لاتعداد داستان شجاعت خواتین سے وابستہ ہیں جس کو الفاظ میں بیاں کرنا ایسا ہے جیسے سورج کو چراغ دیکھانا حب جاہ اور حب ذات کے اس پر فتن دور میں وہ باتیں ہمیں افسانہ لگتی ہیں

کیونکہ ہم اس فانی دنیا کی رنگینوں میں اتنے مست ہو گئے ہیں کہ اسلام،مجاہدہ، قربانیاں اور ان جیسی باتیں ہمیں فرسودہ لگتی ہیں حالانکہ وہ بھی اسی دنیا کی عورتیں تھی جو اپنے بیٹوں کو دشمنوں سے جنگ کرنے پر خود للکارتی تھیں

    وہ مجاہدہ مائیں تھیں جن کے کوکھ سے خالد،ایوبی،طارق جیسے سورما جنم لیتے تھے۔

ان عورتوں نے جنہیں ہم صحابیات کے نام سے جانتے ہیں قربانی،ایثار، اطاعت کی ایسی نظیریں قائم کی

جس کو بیاں کرنے کے لیے الفاظ کم۔ پڑ جائیں عرب کی ریتلی زمین ہو یا احد پہاڑ ان کی قربانیوں کی زندہ گواہ ہیں

اسلام جو مکہ اور مدینہ سے نکل بڑے بڑے سپر پاورز کو تہ و تیغ کرتا ہوا دنیا کے ہر گوشے تک پہنچ رہا تھا اس کا سہرا کہیں نا کہیں ان بہادر  ماؤں کو جاتا ہے جو ان سورماؤں کو جنم دیتی تھیں پھر  اسلام کی سربلندی کے لیے انہیں جہاد پر دلیرانہ انداز میں رخصت کرتی تھیں ان بیویوں کو جاتا ہے جو شب عروسی سے اپنے شوہروں کو میدان جنگ میں بھیجا کرتی تھیں ان بیٹیوں کو جاتا ہے ان بہنوں کو جاتا ہے ۔

ان ساری خواتین کو جاتا ہے جو اپنے مردوں کے شانہ بشانہ ان کا حوصلہ بن کر کھڑی رہیں

تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا جب رومیوں کی فوج ایک ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے مانند مٹھی بھر مسلمانوں کے مقابل کھڑی تھی۔

     حضرت زرار بن ازور جو شجاعت اور بہادری میں اپنی مثال رکھتے تھے میدان میں اترے اور رومیوں کی صفوں پر کسی طوفان کی مانند ٹوٹ پڑے دشمن اسلام کو جہنم کرتے کرتے یہ مسلمانوں کے لشکر سے بچھڑ گئے رومیوں  نے انہیں اکیلے دیکھ ان کو اپنے نرغے میں لے لیا اور یو یہ رومیوں کے قید میں چلے گئے۔

جونہی یہ خبر حضرت خالد بن ولید کو ملی حضرت خالد بن ولید بہادر نوجوانوں کا دستہ ترتیب دے رہے تھے جو حضرت زرار کو رومیوں کو قید سے بازیاب کرواۓ لیکن اسی لمحے  بجلی کی رفتار سے ایک نقاب پوش شہسوار آگے بڑھتا ہے اور رومیوں کی پہلی صف کو چیرتا آگے بڑھتا ہے اتنی غضب تھی اس شہسوار کے حملے میں اور تلوار کے ضرب میں کہ رومی فوجوں کے قدم اکھڑ رہے تھےاور خالد بن ولید جیسے جنگجو بھی ورطۂ حیرت میں تھے اس کی رفتار دیکھ کر خالد بن ولید نے بھی نوجوان مجاہدین کو اس شہسوار کی مدد کو بھیجا اور خود بھی اس جانب بڑھے کبھی خالد بن ولید اس شہسوار کو دشمنوں کے نرغے سے نکلنے میں مدد کر رہے تھے اور کبھی وہ شہسوار خالد بن ولید کو دشمنوں کے نرغے سے نکالنے میں ۔مدد کر رہا تھا

   گھمسان کا رن تھا ہر طرف تلواروں کی چمک تھی اور پسپا ہوتی رومی فوج خالد بن ولید نے جنگ کے دوران ہی آواز دے کر پوچھا اۓ شہسوار کون ہے تو اس شہسوار نے جواب دینے کے بجائے اپنا رخ موڑا اور دشمنوں پر اپنا جارحانہ حملہ جاری رکھا خالد بن ولید نے دوسری بارپوچھا لیکن جواب ندارد تھا اور جارحانہ حملوں کا سلسلہ جاری تھاتیسری بار خالد بن ولید نے الله کا واسطہ دے کر پوچھااۓ شہسوار کون بہادر ہے توتو اندر سے نسوانی آواز آتی ہےمیں زرار کی بہن خولہ بنت ازور ہوں میں اپنے بھائی کو جب تک آزاد نا کروا لوں چین سے نہیں بیٹھوں گی

یہ تھی ان عورتوں کی شجاعت یہ تھی ان کی بہادری۔

   میری ناقص رائے کے مطابق اگر عورتیں مضبوط ہو جائیں تو مرد کے حوصلے بلند ہو جاتےاگر عورتیں کمزور ہو جائیں تو مرد کے حوصلے بھی پست ہو جاتے ہیں اور اس کی مثال ہے جنگ یرموک ۔جب رومی تین لاکھ کی کثیر تعداد کے ساتھ تیس ہزار مسلمانوں کے مقابل آۓ اور جب مسلمان پسپا ہونے لگے  تو عورتیں اپنے خیمے سے باہر آئیں  اور مجاہدین  کو کچھ اس الفاظ میں للکار رہیں تھی ایک طرف سے آواز آئی

يامعشر العرب عضروالغلفان بسیوفکم

“عربو!عربو نا مرد بن جاؤ نا مرد” دوسری طرف سے آواز آتی اے پاک دامن عورتوں کو چهوڑ کر بهاگنے والو تم موت اور تیر کا نشانہ بنواور اس للکار سے مجاہدین کو جو حوصلہ ملا پھر پسپا ہوتی فوج میں ایک بجلی کوندی  ہو جیسےجس رفتار سے وہ پیچھے ہٹ رہے تھے اس سے کہیں تیز جارحانہ انداز میں آگے بڑھے اور پھر ایک ذلت آمیز شکست رومیوں کا مقدر بنی اور صرف میدان جنگ ہی نہیں ہر میدان میں ان خواتین نے اسلام پر چلتے ہوئے ایسے ایسے کارنامے کیے جنکے بیاں کرنے سے زبان اور الفاظ دونوں ہی قاصر ہیں

   اگر ہم سیاسی میدان میں دیکھیں تو شفاء بنت عبداللہ جن سے عمر رضی اللہ جیسے جلیل القدر صحابی خلیفہ بننے کے بعد  راۓ لیا کرتے تھے ان سے صلاح مشورہ کیا کرتے تھے اور ان کی راۓ کو مقدم رکھتے تھے اگر تجارت کے میدان میں دیکھا جائے تو ام المومنین حضرت خدیجہ سے زیادہ بہترین مثال کس کی ہو سکتی ہےاگر سائنس کے میدان میں بات کی جاۓ تو رُفَیْدَهُ بنت سعد الاسلمیہ جو ایک بہترین ڈاکٹر تھیں اور باضابطہ  انہوں نے اور خواتین کو اس کی ٹریننگ بھی دی تھی اگر علم کے میدان میں بات کی جاۓ توعلم الحدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت کیا گیا ہے

غرض کسی بھی میدان میں آپ دیکھ لیں خواتین کی قربانیاں ان کے مجاہدے آپ کو اسلام کی تاریخ میں چاند ستاروں کے مانند روشن نظر آئیں گےلیکن کوئی بھی میدان ہو انہوں نے اسلام کے احکامات کو ہمیشہ نظر کے سامنے رکھا اور اس پر عمل پیرا رہیں حقیقتاً یہی خواتین ہیں جو ہماری رول ماڈل بننے کی مستحق ہیں،

نا کہ وہ خواتین جو آزادی نسواں کے نام پر عریانی و فحاشی پھیلانے کا سبب  بنتی ہیں نا کہ وہ خواتین جو بے حیائی کی طرف دعوت دیتی ہیں آج ہم اپنی حالت کا باریک بینی سے تجزیہ کریں تو ہم ان مغربی عورتوں کی تقلید میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ اپنا سرمایہ زیست یعنی اسلام کے احکامات کو ترک کر چکے ہیں ان حدود قیود کی دھجیاں اڑا چکے ہیں جو اسلام ہم پر عائد کرتا ہے ہمیں کون سی آزادی چاہیے ؟

وہی آزادی جس کے بدلے ہمیں اپنی شرم و حیا اور نسوانیت کا سودا کرنا پڑے وہی آزادی جس کے بدلے ہمیں اپنے وقار اور عصمت کا سودا کرنا پ ڑے

خواتین کے اس مغربی تقلید اور آزادی نسواں کے نام پر بےراہ روی دیکھ اقبال کا ایک شعر ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے

؂اس سرابِ رنگ و بو کو گُلِستاں سمجھا ہے تُو

آہ اے ناداں! قفَس کو آشیاں سمجھا ہے تُو

  تعلم سے لے کر تجارت، تجارت سے لے کر نکاح تک کی آزادی ہمیں اسلام نے دی ہوئی ہے

پھر پتہ نہیں کون سے آزادی کے ہم متلاشی ہیں وَاللّٰہ اَعلَم بِالصَّواب

الله ہم سب کو صحیح سمجھ عطا کرے  اور ان خواتین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جن کی قربانیوں کے بدولت دین ہم تک پہنچا ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button