اسلامیات

صفائی کی اہمیت اور آلودگی کی روک تھام

راحت پروین شیخ الیاس

(عمرکھیڑ،ایوت محل)

 "فلاح اس نے پائ ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی”۔ ( القرآن)

مذہب اسلام یہ صفائی پسند مذہب ہے  جو انسان کو پیدا ہونے سے لے کر وفات تک صاف ستھرا رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ ہمیں جسم سے لے کر ہمارے محلے سوسائٹی اور پوری قوم تک کے لیے صفائی کے احکامات اس مذہب میں بیان کئے گئے ہیں حتیٰ کہ انسان کی جملہ عبارت کے لیے وضو کا مشروط ہونا صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے

۔۔

صفائی اللہ کا حکم ہے اور میرے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ صفائی کی اہمیت کو معاشرے میں اجاگر کرنا بہت زیادہ ضروری ہے حقیقت میں جہاں صفائی ہو گی وہاں صحت خوشی اور مسکراہٹ ہوگی جیسے سورج نکلنے سے اندھیرا بھاگ جاتا ہے۔۔ اسی طرح صفائی کے آنے سے بیماریاں غم تاریخیاں اور نحوستیں رخصت ہو جایا کرتی ہے۔۔

ماحول کو اگرخوشگوار بنانا ہو تو ہمیں صفائی کو عام کرنا ہوگا آج کے حقیقی معاشرے کو بھی دیکھئے تو گندگی ہی گندگی ماحول کو بدکردار بے جان  بنانے میں بھی لوگوں کاہی کر دار ہے

۔ صفائی صرف جسم کی ہی نہیں بلکہ پورے ماحول کی کرنا ضروری ہے اگر صفائی کی اہمیت ختم ہو جائے تو وہ وقت دور نہیں ہے جو نشاۃ ثانیہ سے پہلے یورپ پر گزر چکا ہے یورپ کے لوگ گندگی کے ڈھیروں میں رہتے تھے لندن سے گندا شہر کوئی نہیں تھا لوگ گھروں کے سامنےغلازت کرتے تھے۔۔۔ مکانات بےترتیب تھے اور کنٹربری لاٹ پادری جب اپنے چرچ سے نکلتا تو اس کی قباپر جوئیں چلتی پھرتی نظر آتی تھی۔۔۔

ذرا سوچئے!ہمیں ماحول بہترین ملنے کے بعد ہم اسے محفوظ نہیں رکھتے آخر کیوں ؟کیوں نہیں ہم بالکل اس ماحول کی حفاظت کر سکتے ہیں ۔۔صفائی کے اختتام سے ہمارا ہی نقصان ہوگا کیونکہ بیماریاں لاحق ہوں گی۔۔۔ صحت پر برے اثرات رونما ہوں گے۔۔ماحول کو صفائی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔۔

بقول شاعر۔۔۔

صفائی ہے حسن و لطافت کی بات

صفائی حقیقت میں ہےچاند رات

صفائی ہے انسان کی عظمت کا نور

صفائی سے پیدا ہو دل میں سرور

صفائی کشش کا سبب ہے عزیز

صفائی سے بڑھ کر نہیں کوئی چیز

صفائی و پاکیزگی اور طہارت کا تعلق افراد کی صحت سے بھی ہے اور ماحول کی پاکیزگی اور اس کی حفاظت سے بھی اسلام میں اسے بہت اہمیت دی گئی ہے۔۔ ایک حدیث میں ہے

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "پاکیزگی نصف ایمان ہے” (مسلم 223 )

لیکن افسوس ہے ایسے لوگوں پر۔۔جن کو ایمان کے نصف حصے کی تھوڑی بھی فکر نہیں ہے آج ہم نبی کے احکامات ایسے بھلا بیٹھے ہیں جیسے ہمیں کچھ پتہ ہی نہیں آہ۔۔۔۔یہ معاشرہ ۔۔۔آہ۔۔۔ایمان کی تکمیل کے لئے صفائی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا صفائی انسان میں فرشتوں کی معصومیت ،شبنم کی شادابی، پھولوں کا تبسم،چاند کا حسن،عقاب کی نظر ،شاہین کی پرواز،چیتے کا جگر اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کی جھلک پیدا کرتی ہے

 اب تک  تو آپ نے دیکھ لیا ۔۔۔۔ظاہری صفائی کون کون سی ہے۔ہم نےظاہری صفائی تو کرلی لیکن باطنی صفائی ہی نہ انجام دی۔۔ تو اس دنیا میں رہنے کا کیا فائدہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ باطنی صفائی یعنی کیا ہو؟

باطنی صفائی یعنی کے اگر ہمارے دلوں میں نفرت کا لاوا پک رہا ہے ۔۔تعصب کا دھواں اور دشمنی کی آگ سلگ رہی ہے تو ظاہری صفائی کے باوجود دنیا جہنم بن جائے۔۔

 جی ہاں جناب۔۔۔

 آپ دیکھ رہے ہیں کہ مغربی سماج کس قدر حسین ہے مگر یہی کے چہرے دنیا کا امن و سکون غارت کر رہے۔۔  لاکھوں انسانوں کو غلام بنایا جارہاہے ظلم ڈھانا ان کاشیوہ بن چکا ہے یہ انسانی شکل میں خونخوار بھیڑئے ہے جو انسانوں کو اپنا نوالہ بنا رہے ہیں ان کے اثرات ہمارے سماج پر مرتب ہونے سے پہلے ہی ظاہری صفائی اور باطنی صفائی پر دھیان دینا بہت زیادہ ضروری ہے۔۔ اگر صفائی کی اہمیت پر غور و فکر نہ کریں تو سماج میں آلودگی کا رجحان بڑھتا جائے گا اور اس آلودہ ماحول سے ہمیں کوئی نہ بچا پائے گا۔۔

تو چلئے۔۔۔۔ہم جانتے ہیں کہ آلودگی کی اسباب کیا ہے اور اس کو روکنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔۔

آلودگی

آلودگی کوئی بھی ہوکرہ ارض  پر رہنے والوں کی زندگیوں کے لیے خطرے کا باعث ہے۔۔ویسے تو آلودگی کی بہت اقسام ہے جس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔

مثلاً:-

فضائی آلودگی

آج آلودگی اہم مسئلہ ہے اور جو آلودگی کی مقدار بڑھ رہی ہے وہ ہے فضائی آلودگی اس کی مقدار میں اضافہ کی وجہ ہوائی جہاز، سیٹلائٹ ،زہریلی گیسیس وغیرہ ہے ۔۔سیٹلائٹ ہمیں موسم کی معلومات وغیرہ تو دیتا ہے مگر یہ جب ناکام ہو جاتا ہے تب اس کا کچرا وہی فضا میں خطرے کا باعث بنتا ہے زہریلی گیسوں کی وجہ سے تیزابی بارش ہوتی ہے زیادہ آمدورفت کے استعمال سے کاربن مونو آکسائیڈ خارج ہوتا ہے اور نقصانات اور امراض لاحق ہوتے ہیں ۔۔

اس کو روکنے کے لیے سی این جی گیس والی گاڑیوں کا استعمال کیا جائے زہریلی گیسوں کا استعمال کم کیا جائے سیٹلائٹ کو احتیاط سے داغا جائے اور کم تعداد میں داغا جائے۔۔

اس کے علاوہ تہواروں میں غلط چیزوں کا استعمال کرتے ہیں حالانکہ تہوار خوشی منانے، خوشی بانٹنے اور خوشی پھیلانے کے لیے منایا جاتا ہے، لیکن اگر وہ صحت خراب کرنے، سانس اٹکانے اور آگ لگانے کا ذریعہ بن جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم تہوار نہیں؛ بلکہ موت کا جشن منا رہے ہیں۔

افسوس۔۔۔ہم غور نہیں کرتے۔۔

اوزون ڈپلیشن(ٹوٹنا)

فضا کی اوپری سطح پر موجود اوزون تہہ کا پتلا ہونا اوزون کا ڈپلیشن کہلاتا ہے۔ اوزون گیس  سورج سے نکلنے والی نقصان دہ شعاعوں کو جذب کرکےان کو سطح زمین پر آنے سے روکتی ہے زمین پر بسنے والے انسانوں کی حفاظت کرتی ہے لیکن ہوائی جہاز کے ذریعے خارج شدہ نائٹروجن آکسائیڈ گیس اوزون کے ساتھ عمل کرکے اوزون کی سطح کو دن بدن کم کر رہی ہے جس کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی تیزی سے واقع ہو رہی ہے ۔۔کیونکہ بالائے بنفشی شعاعیں براہ راست زمین کی سطح پر پڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے قوت مدافعت، جلد کا کینسر ،آنکھوں کی بیماریاں، وغیرہ تیزی سے وجود میں آرہی ہے اس کو روکنے کے لئے زہریلی گیسوں کو ماحول میں کم کرنا ہوگا۔۔

فضائی آلودگی پر انسدادی تدابیر

1.کارخانوں سے نکلنے والے دھویں میں کی آلودہ ذرات ہوتے ہیں۔فضائی آلودگی کو قابو کرنے والے آلات کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے مثلاً مزاحمتی آلات، صافی آلات کا استعمال کرنا ان کو روکنے کے لیے چمنی پر جالیاں لگانا۔

  1. شہروں میں بدبو پھیلانے والے کچروں کی مناسب طور پر نکاسی کرنا۔

3.جوہری تجربات، کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر مناسب پابندی لگانا۔

  1. سی ایف سی کی پیداوار پر پابندی لگانا۔

زمینی آلودگی

زمین پر ہونے والی زمینی آلودگی  جس میں صوتی آلودگی، آبی آلودگی ،مٹی کی آلودگی ،شامل ہے ان آلودگیوں  کی وجہ سے ماحول میں رہنے والے جاندار کو بہت زیادہ خطرات ہے۔ یہ خطرات  صنعت کاری کی وجہ سے آج زیادہ بڑھتے جا رہے ہیں آلودہ پانی کی وجہ سے انسانوں کو یرقان،میعادی بخار ،جلدی بیماریاں ،نظام انہضام کے امراض ہوتے ہیں۔۔ ان آلودگیوں کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنا بے حد ضروری ہے اسی لیے کچرے کی نکاسی،زیادہ آواز پیدا کرنے والی چیزوں کا استعمال  ختم کرنا ہوگا۔۔۔درختوں کی تعداد بڑھانی ہوگی۔۔

 زمینی آلودگی سے حفاظت کے لیے اسلام کا فارمولہ

پٹرول کی ریفائنری، صابن سازی کے فضلاتی مادے، نمک، تیزاب، نقصان دہ کمیکل اور صنعتی کوڑا کرکٹ زمینی آلودگیوں کے بڑے اسباب ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے، تو آسمان کا صاف شفاف پانی بھی زمینی آلودگیوں کی کثافت کو دھونے میں ناکام رہتا ہے۔ جس سے زمین بڑی تیزی سے ناقابل استعمال ہوتی جارہی ہے۔

انسان و حیوانات کے ساتھ ساتھ نباتات کی بقا کا دارو مدار اچھی زمین پر ہے، اسی لیے اسلام نے اس کے برباد کرنے کو سختی سے ناپسند کیا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے کہ

وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِي الْأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیھَا وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرۃ،۲۰۵)

اور جب وہ آپ کے پاس سے واپس جاتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچائیں اور کھیتی اور نسل کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔

صوتی آلودگی

صوتی آلودگی کے بڑے اسباب میں سے صنعتی و تعمیراتی سرگرمیاں، ہمہ وقت چلنے والی مشینیں، جنریٹر، گاڑی اور گانے بجانے کے آلات ہیں، جوفلک شگاف شورو ہنگامہ کا تسلسل پیدا کرتے رہتے ہیں۔ 38 ڈسیمل سے زائد شور ہونے پر چڑچڑاپن، غصہ، ذہنی تناو، حرکت قلب، بلڈ پریشراور بہرے پن کی بیماریاں عام ہوتی جارہی ہیں۔

اسلامی عبادات اور تعلیمات میں صوتی آلودگی کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ اسلا م نقطہ نظر یہ ہے کہ آواز نہ تو بہت زیادہ بلند ہو کہ اس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے اور نہ ہی اتنی پست ہو کہ جس مقصد کے لیے آواز نکالی جارہی ہے، وہ مقصد بھی پورا نہ ہو۔۔

Act

Noise pollution Rule 2000

(Prevention and control of pollution)Act 1981

Air pollution control law

ان قوانین پر ہمیں اور حکومت کو عمل کرنا ہوگااور آلودگی کو جلد از جلدکم کرنا ہو گا۔۔ ان شاءاللہ اگر ہم ساتھ مل کر یہ کام کرے۔۔تو آلودگی کااختتام ہوگا۔۔اورساتھ ہی ساتھ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں کیوں کے اللہ نے ہمیں عظیم نعمتوں سے نوازہ ہے اور ہم ان نعمتوں کی حفاظت سے غافل ہوگئے۔۔

ارشاد ربانی ہے

” تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے”(الرحمن)

یہ سچ ہے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کو جھٹلا بیٹھے ہے یہ جو ماحول ہے اس کو بلا ضرورت نقصان پہنچا رہے ہیں۔۔انشاءاللہ ہم ضرور اپنے ماحول کی حفاظت کریں گے اور لوگوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔۔۔انشاءاللہ

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button