اسلامیات

قیمتی ہار!!! اس کی حفاظت کیجئے

سمیّہ عامر خان

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

‘لڑکی’۔۔۔۔ اس لفظ سے ‘‘ک’’ ہٹا دیا جائے تو لفظ ‘‘لڑی’’بن جاتا ہے اور لڑی سے مراد ہار(necklace) یا مالا، جیسے کہ موتیوں کی مالا, ہیروں کا ہار،   موتی پرونے پر ہار کی شکل اختیار کرتے ہیں۔اور قیمتی بن جاتے ہیں اور گلے کی زینت بنتے ہیں۔

لیکن جب یہ ہار ٹوٹ جائے تو موتی بکھر جاتے ہیں اور اس کی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی

یہ جو لڑکیاں ہوتی  ہیں نا ، موتیوں کی مالا ، ہیروں کا ہار جیسی ہوتی ہیں۔  جب ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے تو بکھر جاتی ھے

واقعی میں یہ لڑکیاں، جنہیں ‘‘صنف نازک’’ کہا جاتا  ہیں،   بڑی معصوم ہوتی ہے۔لیکن ساتھ ہی صبرو تحمل کی چٹان ہوتی ہیں۔

زمانے کے نشیب و فراز سہہ کروہ نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے۔لیکن افسوس سماج میں  عورت کی جو بے توقیری ہو رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔گھریلو تشدد،جہیز کے نام پر زندہ جلائے جانا،زنا بالجبر،کے واقعات عورتوں پر ظلم کی کھلی داستان بیان کر رہے ہیں۔

عالمی طور پر 11/اکتوبر کو لڑکیوں کا یوم پیدائش منایا جاتاہے۔تاکہ عورتوں پر ہونے والے مظالم کو روکا جا سکے۔

اسلام نےآج سے 1443سال پہلے ہی وہ تمام حقوق عورتوں کو دئیے جس کی وہ مستحق ہیں۔اگر اس پر عمل کیا جاتا تو دنیا امن کا گہوارہ ہوتی۔

اسلام میں عورتوں کا مقام۔۔۔۔

 اسلام نے لڑکیوں کو ذلت اور غلامی کی زندگی سے آزاد کرایا اور ظلم و استحصال سے نجات دلائی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کاخاتمہ کر دیا.جو لڑکی کے انسانی وقار کے منافی تھیں۔ نوزائیدہ بچی کو زندہ زمین میں دفن کئے جانے سے نجات ملی۔ یہ رسم نہ تھی بلکہ انسانیت کا قتل تھا۔ایک ایسا معاشرہ جہاں بیٹی کی پیدائش کو ذلت اور رسوائی کا سبب قرار دیا جاتا تھا۔

اسلام نے بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیابلکہ اسے وراثت کا حقدار بھی ٹھہرایا۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ ۖ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَـهُنَّ ثُلُثَا مَا تَـرَكَ ۖ وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَـهَا النِّصْفُ ۚ

اللہ تمہاری اولاد کے حق میں تمہیں حکم دیتا ہے، ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، پھر اگر دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو ان کے لیے دو تہائی حصہ چھوڑے گئے مال میں سے ہے، اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے۔(سورہ النساء آیت١١)

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے سورہ شوریٰ آیت ٤٩ اور٥٠

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۗ يَخْلُقُ مَا يَشَاۤءُ ۗ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۤءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۤءُ الذُّكُوْرَ (٤٩)

اَوْ يُزَوِّجُهُـمْ ذُكْـرَانًا وَّاِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَآءُ عَقِيْمًا ۚ اِنَّهٝ عَلِيْـمٌ قَدِيْرٌ(٥٠)

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالٰی ہی کے لئے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہے بیٹے دیتا ہے۔(سورہ شوریٰ٤٩)

یا لڑکے اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، بے شک وہ خبردار قدرت والا ہے۔(سورہ شوریٰ٥٠)

قرآن مجید کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں اللہ کی نعمت ہے۔

عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہم سے روایت ہے كہ آپ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ كَانَتْ لَہٗ اُنْثٰى فَلَمْ يئِدْہا، وَلَمْ يفہنْہا وَلَمْ يوْثِرْ وَلَدَہٗ عَلَيہا – يعْنِى الذُّكُوْرَ – أَدْخَلَہٗ اللّٰہ الْحَنَّةَ

‘‘جس كے پاس لڑكى ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ كرے، نہ اس كى توہین كرے اور نہ برتاؤ میں لڑكے كو اس پر ترجیح دے یعنى دونوں كے ساتھ یكساں سلوک روا ركھے تو اللّٰہ تعالٰی اس كو جنت میں داخل فرمائے گا۔’’

(مشكوٰة ص۴۲۳، مسند احمد ج۱ ص۲۲۳)

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے كہ آپ ﷺ  نے فرمایا:

مَنِ ابْتُلِى مِنْ ہذِہٖ الْبَنَاتِ بِشَىءٍ فَحَسَّنَ إلَيہنَّ كُنْ لَہٗ سِتْراً مِنَ النَّارِ.

"جس شخص پر اللّٰہ كى طرف سے بیٹیوں كى ذمہ دارى ڈالى گئى (اور اس نے اس ذمہ دارى كو نبھایا)اور ان كے ساتھ حسنِ سلوک كیا، تو یہ بیٹیاں اس كے لیے جہنم سے نجات كا ذریعہ بنیں گى-"

    عورت کے کئی روپ ہے۔  ماں، بیٹی، بہن اور بیوی۔ لڑکی، ہر روپ میں انسان کے لئے نعمت و رحمت ہوتی ہے۔  ماں کے روپ میں ہو تو جنت اس کے قدموں میں رکھ دی جاتی ہے۔ جب یہ بیٹی اور بہن کے روپ میں ہو تو والد اور بھائی کو جنت میں لے جانے کی باعث ہوتی ہے

اسی طرح اگر بیوی ہو تو شوہر کا آدھا ایمان مکمل کرتی ہے۔ "حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” جس شخص نے شادی کرلی اس نے آدھا ایمان پورا کرلیا لہذا اسے چاہئے کہ باقی آدھے میں اللہ تعالٰی کا تقوی اختیار کرے”. {شعب الایمان 5001، مستدرک الحاکم 2/161}

غرض یہ کہ اسلام نے لڑکی کو ہر حیثیت سے عورت کو انتہائی تکریم و اعزاز سے نوازا ہے۔اسی لئے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکیوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں تاکہ لڑکیاں والدین کے لئے سرمایہ جنت ہو۔

        ان نازک کلیوں کی اس طرح تربیت کی جاۓ کہ ان کی راہوں میں کتنے ہی کانٹے ، کتنے ہی دکھ غم اور کتنا ہی مشکل مرحلہ آجاۓ یہ ان مشکل راہوں کا بآسانی مقابلہ کرسکے۔ ان کا ضمیر ان کی خودی اس طرح ہو جن سے ان کا حوصلہ بلند ہو ،

بقول شاعر

  تیری ہر چال سیدهی ہو

 تیراہر ڈهنگ پیارا ہو

  محبت تیرا مسلک ہو

  اطاعت تیرا شیوہ ہو

  کہ گھربهر میں اجالا ہو

تیرے پیش نظر ہر دم حیات پاک زہرا ہو

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button