اسلامیات

لاک ڈاؤن سے بچو ں پر نفسیاتی عوارض،اور اس کا حل

مونسہ بختیار سید یوسف علی

(پانڈھر کوڑا، ضلع،ایوت محل)

کووڈ-١٩ دنیا بھر کے تمام انسانوں،نیز بچوں پر خاص طور پر اثر انداز ہوا ہے۔دنیا بھر میں پھیلی اس وبا کو قابو کرنے کے لیے تقریباً ہر ملک میں لاک ڈاؤن لگا یا گیا۔ساتھ ہی تعلیمی اداروں کو بھی بند رکھا گیا۔جس کا بڑا اثر یا یو کہیے ایک کثیر مدتی اثر رونما ہونے کے امکانات نظر آتے ہے۔یہ اثرات ہر بچے پر ایک سا اثر نہیں کرتے،یہ منحصر کرتا ہے کہ بچے کی عمر کا مرحلہ،خاندانی پس منظر،تعلیمی استعداد،معاشی صورت حال وغیرہ کس طرح کی ہے۔ہم دیکھتے ہے کہ بچوں پر کس طرح ان چیزوں کے ساتھ لاک ڈاؤن اثر انداز ہورہاہے۔

نومولود اور بہت چھوٹے بچوں پر اثرات

پھلتی وبا اور لاک ڈاؤن سے ہر انسان ایک طرح کے ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔اور اگر ہم بات کر ے بچوں کی تو،ذہنی دباؤ بچے پر اس وقت سے ہی بڑا گہرا اثر چھوڑتا ہے جب کے وہ پیدا بھی نہ ہوا ہو،یعنی حاملہ عورت کے رحم میں نشونما پاتے بچے پر ماں کی ذہنی حالت کا بے انتہا اثر ہوتا ہے،اس صورت میں اس کی پیدائش سے قبل ہی ذہنی دباؤ،نفسیاتی امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ٣-٤ سال کے بچوں کے اندر وبا پھیلنے سے انکی جذباتی اور سماجی ترقی میں اچانک سے بدلاو آیا،جس سے بچو ں کے اندر چڑ چڑاپن،خوف،(clinginess)چپکو پن،دیکھا جارہاہے۔ساتھ ہی نیند کا متاثر ہونا،بھوک کی کمی،ڈراونے خواب جیسے اثرات اس عمر کے بچوں میں پیدا ہورہے ہیں۔

اسکول جانے والے بچوں پر اثرات

دنیا بھر میں تعلیمی اداروں کے بند ہونے سے ،٪٩١ طلبہ کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہے۔۔۔۔۔تعلیم میں رخنہ،جسمانی سر گر میوں میں کمی،ترقی کے لیے مواقعوں کی کمی،بوریت،رفیقوں سے نہ مل پانے اور باہر نہ کھیل پانے سے جو اثرات رونما ہورہے ہیں وہ دیر پا ہے،جس کی وجہ سے بچو ں کے اندر شدید ذہنی تناؤ،جمود،موٹاپا،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال وغیرہ عادات بن رہی ہے۔

غریب اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے بچوں پر اثرات

غیر مراعات یافتہ یا کم مستفیض بچوں کی اگر بات کی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں مانا یہ جاتا ہے کہ گھر محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے وہی ان علاقوں میں یہ بات بالکل الٹ نظر آتی ہے۔لاک ڈاؤن میں گھر میں بند بچوں پر ان کے جاہلانہ ماحول اور غربت کا بڑا اثر ہوتا ہے۔
تعلیم جہاں ان بچوں کو ایک روشن مستقبل کی امید دلاتی ہے وہی اچانک اس کا بند ہوجانا بچو ں کے اندر مایوسی پیدا کر رہا ہے۔
آن لائن پڑھنے کے سہولت ان بچوں کو دستیاب نہ ہونے سے،بھوک اور افلاس سے جھوجھتے ان بچوں کو دوبارہ بچہ مزدوری کی طرف ڈھکیلا جارہا ہے ،جس سے بچوں کے اندر، خوف،نا امید ی ،مایوسی،جیسے امراض جنم لے رہے ہیں۔

ان تمام مسلوں سے نمٹنااور کو وڈ کے نفسیاتی اثرات سے اپنی نسلوں کو بچانا والدین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔مندرجہ ذیل اقدامات سے ان اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔

بچوں کو خاص توجہ دے،انھیں محبت اور تحفظ کا احساس دلایے
۔بچوں کو با معنی سرگرمیوں جیسے،پودے لگانا،کہانیاں لکھنا وغیرہ۔۔۔سے جوڑے۔
°لاک ڈاؤن کو تعلقات کی اصلاح کا ذریعہ بناتے ہوئے،بچوں میں صلح رحمی،مدد،خیر خواہی،ہمدردی جیسے جذبات کو پروان چڑھانے کی کوشش کریں۔
امید افزا باتوں سے بچو ں کی ہمت بڑھاے،انکو اللہ کی ذات پر توکل کا سبق دے‌
قرآن سے شغف پیدا کرے،بچوں کے ساتھ مل کر سیرت اور تاریخ اسلامی کا مطالعہ کریں۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button