اسلامیات

ماحول کا حسنِ انتظام

الماس مَہر شیخ اسماعیل

عمرکھیڑ ،مہاراشٹرا

"جانداراوں پر کسی نہ کسی طریقے سے اثر انداز ہونے والے طبعی,کیمیائی اور حیاتی اجزا ،ان تمام کو مجموعی طور پر ماحولی عوامل کہتے ہے  اور حیاتی اور غیر حیاتی عوامل سے مل کر ماحول بنتا ہے”

مختصراً یہ کے ماحول سے مراد اطراف کے حالات ،جاندار ،قدرتی اور انسان کے بناے ہوئے اجزا کا شمارجن میں ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی آپ بھی سوچتے ہوں گے  کےقدرت میں پا ۓ جانے والے مفید بیکٹیریا وائرس جراثیم ,دیمک ، کیڑے  حشرات وغیرہ کیا یہ بھی مفید ہوتے ہے ؟لیکن یہ جاندار گندے لگے تب بھی بے حد اہم ہے ۔وہ خصوصی طور پر ماحول کی صفائی کرتے ہیں ۔یعنی ہمارے اطراف میں رہنے والے اِن اجزا کی وجہ سے ہی ہمارا وجود قائم  ہیں ۔اِسی لیے ہمیں تمام اجزا کا خیال رکھنا چاہیے ۔

   ماحول میں دو طرح کے عوامل موجود ہے ۔ایک جاندار اجزا اور دوسرا غیر جاندار ۔جاندار اجزا جو کے خود کفیل اور غیر خود کفیل ہے اور غیر جاندار عوامل جو کے طبعی اورکیمیائی اجزا ہے ۔یہ عوامل ہماری زندگی پر بے حد اثر انداز ہوتے ہے اور ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہے ۔ اللہ سبحان وتعالی ایسی ذبردست تخلیق کرکے اس کائناتی نظام کو بنایا ہے کہ اس میں موجود ہر ذرہ دوسرے کے لیے مفید بنا دیا گیا۔۔۔ اللہ اکبر

 اگر اس تخلیق کو غور و فکر کرے اور اسے اپنے لیے فا ئدہ مند بناۓ تو نوۓ انسانی کو بہت سی آسا ئشیں حاصل ہو سکتی ہے.  لیکن فسوس    دورِ حاضر میں زمین پر کئ قدرتی اور انسان کے پیدا کردہ اجزا کے اثر کی وجہ سے کئ ماحولی مسائل پیدا ہو گئے ہے ۔ان میں سب سے اہم مسٔلہ آلودگی ہے ۔

    آلودگی یعنی قدرتی آفات یا انسان کے افعال کی وجہ سے اطراف کے ماحول میں غیر ضروری اور ناقابلِ قبول تبدیلی ہے ۔یعنی ہوا، پانی اور زمین وغیرہ کی طبعی ،کیمیائی اور حیاتی خصوصیات میں تبدیلیوں کا رونما ہونا،اسی طرح انسان اور دیگر جانداراوں کے لیے نقصاندہ بالواسطہ یا بلاواسطہ تبدیلی ہے ۔آلودگی میں اضافے کا باعث انسانی آبادی کا دھماکہ خیز اضافہ، تیزی سے بڑھنے والی صنعتیں ،قدرتی وسائل کا بے جا استعمال ،جنگلات کی کٹائی ،غیر منّظم شہر کاری ؛ شہریانہ صنعتیانہ وغیرہ ہے ۔

 آلودگی ایک وسیع تصور ہے ۔اس کی مختلف اقسام ہیں جس میں آبی ،فضائی ،زمینی ،تابکاری ،حرارتی ،صنعتی ،گھریلوں ،روشنی اور پلاسٹک وغیرہ آلودگیاں شامل ہے ۔ان تمام آلودگیوں کا مُضر اثر تمام جانداراوں کے وجود پر ہوتا رہتا ہے اوراسی لیے آج ماحول کے تحفظ کی ضرورت شدّت  سے محسوس کی جارہی ہے ۔

   آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ہی کچرا ،گندا پانی ، مختلف آلودگیوں کی مقدار بھی بڑھتی جا رہی ہے ۔اسی کے ساتھ پھیلنے والی  بیماریاں اور اس سے ماحول کی بربادی ایک بین الاقوامی  مسٔلہ ہے ۔ان مسٔلوں کو بر وقت اور مناسب طریقے سے حل نہیں کیا گیا تو تمام جانداراو ں کی اگلی نسل کے لیے زندگی گزارنا دشوار ہو جائے گا ۔

ماحول کے حسن انتظام کے لئے کچھ طریقے تیار کیے گئے ہے جن میں ٹھوس اشیاءکا حسن انتظام زمین بھرنے کی جگہ  مائع اشیاء کا حسن انظام  ,گندے پانی کا انتظام  وغیرہ شامل ہے ۔ اور  گیسوں میں CNG اور میتھین گیس کی تیاری شامل ہے۔۔۔ان کے مراحل مندرجہ ذیل ہے :

1_زمین بھرنے کی جگہ (Landfilling ) :

 شہروں سے جمع ہونے والا کچرا آبادی سے دور لے جا کر زمین کی گہرائی میں ڈالنے کا عمل زمین بھرنے کی جگہ کہلاتا ہے ۔

 کھلی جگہ پر گڑھے کر کے اندرونی طور پر پلاسٹک لگا دیا جاتا ہے تاکے مٹی آلودہ نہ ہو ۔

 اس کے بعد ان گڑھوں میں کچرا ڈالا جاتا ہے اور اس کچرے کو دبایا جاتا ہے ان گڑھوں پر مٹی ،لکڑی کا بھوسا ،کائ ڈالی جاتی ہے ۔یہاں پھر بایوریکٹرملاۓجاتے ہے ۔

  کچرے اور مٹی خوردبینی جاندار کی وجہ سے تحویل ہوتے ہے اور گڑھا پوری طرح سے بھر جاتا ہے ۔کچھ ہفتے میں اس جگہ کھاد ،حیاتی گیس تیار ہوتی ہے ۔

  کھاد کی تیاری کے بعد گڑھوں کو خالی کیا جاتا ہے اور دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے ۔

2_گندے پانی کی نکاسی:

   شہروں , صنعتوں اور گاؤں سے زیادہ مقدار میں گندہ پانی خارج ہوتا ہے جسے sewage  کہتے ہے ۔

 آن فاصد مادّوں کو گندے پانی سے نکالنا ضروری ہوتا ہے اور انھیں قدرتی ذرائع جیسے سمندر ،ندیوں وغیرہ سے نہیں ملایا جاتا ہے ۔اس کے تین مرحلے ہوتے ہے جو درج ذیل ہے ۔

ا۔ ابتدائی مرحلہ :

 ایک طبعی عمل جس میں تیرنے والی چیزے جیسے Polyethene ,تیل وغیرہ گندے پانی سے نکال دیے جاتے ہے ۔

ب ۔ثانوی مرحلہ :

اس مرحلے میں حیاتی طریقے سے پانی کو صاف کیا جاتا ہے یعنی گندے پانی کو بڑھے پیمانے سے ہوائی کنڈ  میں ڈالا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر ہوا گزاردی جاتی ہے ۔ ہوا گزارنے پر خوردبینی جاندار ہوا باش عمل تنفس کرتے ہیں  اور نامیاتی اجزا کا تجزیہ ہوتا ہے ۔

ج۔ ثلاثی مرحلہ :

ہوا باش تنفس کے نتیجے میں وزنی نامیاتی مادے تیار ہوتے ہے جسے مستقل ٹنکی ذخیرہ کرنے والی ٹنکی میں ڈالا جاتا ہے ۔

 اس عمل میں بکٹیریا ،پھپھوند  ان فاصد مادّوں میں جذب ہوجاتے ہے ۔اور اس دوران میتھین ،ہائیڈروجن سلفیٹ اور چَڑبوندِوشِدے carbondioxide  گیس خارج ہوتی ہے ۔

اس طرح ان طریقےکے استعمال سے گندے اجزا بھی دوبارہ استعمال کے لائق  ہوجاتے ہے ۔اس طرح سے ماحول کا حسن انتظام کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح سے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرکے فصل اگانے میں استعمال کرنا ۔۔۔۔

پلاسٹک ؛ اور گاربیج کو ری سائکل کرنا ؛ حل شدہ اشیاء کا تجذیہ کرکے دوبارہ استعمال کرنا ۔۔۔

حیاتی تنزل پذیر اشیاء کا استعمال کرنا اور فاصد اشیاء کو دوبارہ استعمال کے لائق بنانا۔۔۔۔۔

غیر حیاتی تنزل پذیر اشیاء کا استعمال نہ کرنا۔۔۔۔ بھارت کی حکومت نے اس کے لیے 3R اور 7R تکنیک کا استعمال بتایا ہے اور اسکے لیے مختلیف قوانین نافذ کیے ہیں  ۔۔۔

اسی طرح قدرتی اور مصنوی آفات کا انتظامیہ بھی بہت ضروری ہے ۔۔۔جیسے سونامی ؛ زلزلہ ؛آتش فشاں کا پھٹنا ؛ جنگل کی آگ ؛ قحط ؛ اسکے علاوہ آگ لگنا ، جنگلات کی کٹائ ؛ بم باری وغیرہ۔۔۔۔انکو روکنے مختلیف احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہے۔۔۔

جیسے نیلا انقلاب ؛ سبز انقلاب ؛ سفید انقلاب ؛ وغیرہ کچھ مخصوص طریقے ہیں۔

آلودہ ماحول جانداروں میں بیماری کا باعث بنتا ہے اسلۓ آج وقت کی اہم ضرورت آلودگی کی روک تھام اور ماحول کا حسن انتظام بن گیا ہے۔۔

یہ زمین کا نظام اللہ رب العزت نے انسان کے نفع کے لیے بنایا تھا ۔پر انسان نے ذیادہ ترقی کی ہوس اور لالچ میں خود انسان ہی فساد کا باعث بن گیا۔۔۔

اللہ سبحان و تعالی ہم سب کو ان تدابیر پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا کریں ۔۔

آمین یا رب العالمین

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button