اسلامیات

مسجد اقصیٰ اور بابری مسجد  اُمت کی عزت و شرف کی ضامن

  ڈاکٹر ظل ھما بنت عبدالعلیم اصلاحی

 

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَا اُولٰیِکَ مَا کَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَایِفِیْنَ لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (البقرہ :۱۱۴)

‘‘اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے روکے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے، ایسے لوگوں کو حق نہیں ہے کہ وہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لئے تو دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں عذاب عظیم۔’’ (البقرہ :۱۱۴)

رمضان المبارک کی آخری بابرکت راتوں میں اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ قبلۂ اول کی حرمت و تقدس کی پامالی اور اس کے مصلیوں پر وحشیانہ جارحیت نے ساری دنیا کے با غیرت مسلمانوں کو مضطرب ،بے چین، دلگیر، مغموم اور فکرمند کردیا ہے ۔ اسرائیل کو اس پامالی اور جارحیت سے باز رکھنے اسے کسی بھی امکانی اقدام سے روکنے کے لئے حماس اور دیگر جہادی گروپوں نے مل کر بروقت اور صحیح فیصلے کرکے جو اقدام کئے اور جس طرح فلسطینی مسلمانوں نے جم کر مزاحمت کی اور استقامت کا مظاہرہ کیا اس کے لئے حماس سمیت پوری فلسطینی قوم تعریف و ستائش کی حقدار ہے۔ اپنی اس مزاحمت اور استقامت سے انہوں نے ایک بار پھر اسرائیل کو اپنے قدم پیچھے ہٹالینے پر مجبور کردیا اور یہ ثابت کردیا کہ ہم اپنی ناتوانی اور بے سر و سامانی کے باوجود کسی طاقتور کے لئے ترنوالہ نہیں ہیں … اور یہ بھی ثابت کردیا کہ مفاہمت کی راہ کو ٹھکرا کر مزاحمت کی جو راہ انہوں نے اپنائی ہے وہ بالکل صحیح ہے اور قرآن و سنت کے عین مطابق ہے… اسی کے ذریعہ صہیونی عزائم کی راہ میں روڑے اٹکائے جاسکتے ہیں اور اسرائیل پر ایک تھکا دینے والی جنگ مسلط کرکے بالآخر اس کے ناپاک وجود سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مسجد اقصیٰ کی پامالی اور اس کے مصلیوں پر جارحیت حماس ۔اسرائیل کی گیارہ روزہ حالیہ جنگ کی اصل وجہ بنی۔ فلسطینی مسلمانوں نے گوارا نہیں کیا کہ مسجد اقصیٰ پر معمولی سی بھی آنچ آئے۔ ان کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اقصیٰ پر قربان کرکے اس کے تحفظ و پاسبانی کا فریضہ ادا کرتے ہیں ’’بالروح بالدم نفدیک یا اقصیٰ‘‘ کا ورد نہ صرف ان کی زبانوں پر جاری رہتا ہے بلکہ وہ عملی طور پر بھی اس کی شہادت دیتے رہتے ہیں۔ یہ ان کا اجتماعی طرز عمل اور موقف ہے جس سے پیچھے ہٹنے کے لئے وہ کسی طور راضی نہیں ہیں ۔

اس موقع پر فلسطینی قوم کو چھوڑ کر مسجد اقصیٰ کے تئیں جب عرب اور مسلم ممالک کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے طرز عمل ، رویہ  اور موقف کا جائزہ لے رہے ہیں تو ایک ایسی حقیقت عیاں ہو کر سامنے آرہی ہے جو ہر باغیرت اور ذی شعور مسلمان کے لئے باعث تشویش ہے۔ خصوصاً ان مسلمانوں کے لئے جو بابری مسجد سے محرومی کے درد میں تڑپ رہے ہیں یہ حقیقت جو عیاں ہوکر سامنے آرہی ہے وہ ہے مسجد اقصیٰ سے عملاً دستبرداری۔ اور ویسی ہی غفلت  لاپرواہی  بے شعوری و بے حسی جیسی مسلمانانِ ہند اور ساری دنیا نے بابری مسجد کے سلسلہ میں روا رکھی تھی۔

مسجد اقصیٰ اور بابری مسجد دو مسجدیں ہیں  اسلام کے شعائر میں سے ہیں… یکساں طور پر قابل احترام ہیں اگرچیکہ ایک کا درجہ قبلۂ اول ہونے … تمام نبیوں کی سجدہ گاہ ہونے کے اعتبار سے دوسرے سے بڑا ہے لیکن اس کے باوجود ان دونوں کے قضیہ میں بڑی مماثلت اور یکسانیت ہے۔ مسجد اقصیٰ کو بھی بالکل ویسی ہی صورتحال درپیش ہے جیسی بابری مسجد کو در پیش تھی جس طرح مسجد اقصیٰ کا ایک تاریخی پس منظر ہے ،اسی طرح بابری مسجد کا بھی ایک تاریخی پس منظر ہے جس طرح ہیکل سلیمانی کو ڈھا کر مسجد اقصیٰ کی تعمیر کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے ،اسی طرح رام مندر کو ڈھا کر بابری مسجد تعمیر کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے … جس طرح 1948ء سے مسجد اقصیٰ کی کہانی شروع ہوتی ہے ،اسی طرح 1949ء سے بابری مسجد کی کہانی شروع ہوتی ہے… جس طرح ان ستر سالوں میں مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچانے اور اس پر مکمل قبضہ جمانے کی متعدد بار کوششیں کی گئیں اسی طرح بابری مسجد کو بھی متعدد بار نقصان پہنچانے اور اس پر قبضہ جمانے کی کوششیں کی گئیں  جس طرح مسجد اقصیٰ کی وقفہ وقفہ سے بے حرمتی اور پامالی کی جاتی ہے اسی طرح وقفہ وقفہ سے کبھی تالا لگوا کر کبھی تالا کھلوا کر … کبھی مورتیاں رکھ کر  کبھی شیلا نیاس کروا کر بابری مسجد کی بے حرمتی کی گئی … جس طرح مسجد اقصیٰ کا مسئلہ دین و ایمان، عقیدے ،غیرت و حمیت کے مسئلہ سے ہوتے ہوئے عربوں اور اب صرف فلسطینیوں کا داخلی اور سیاسی مسئلہ بن کر رہ گیا ہے بالکل اسی طرح بابری مسجد کا مسئلہ بھی دین و ایمان اور عقیدے کے مسئلہ سے ہوتے ہوئے اب صرف ایک سیاسی مسئلہ میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے جس طرح مسجد اقصیٰ کو ہتھیانے کے لئے مذاکرات اور خفیہ ساز باز کی جاتی ہے اسی طرح بابری مسجد کو ہتھیانے کے لئے بھی مذاکرات اور ساز باز کی جاتی رہی جس طرح امت کے دل سے مسجد اقصیٰ کی عقیدت اور اہمیت کو کم کرنے کے لئے موشگافیاں کی جارہی ہیں اسی طرح بابری مسجد کی عقیدت اور اہمیت کو مسلمانان ہند کے دلوں سے ختم کرنے کے لئے موشگافیاں کی گئیں جس طرح مسجد اقصیٰ کے معاملے میں آج ساری دنیا کے مسلم حکمرانوں اور عوام نے فلسطینیوں کو یکا و تنہا کردیا ہے ،اسی طرح بابری مسجد کے معاملے میں بھی باغیرت و باحمیت مسلمانوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے … جس طرح ایک کے بعد دیگرے مسلم حکمران اور علماء و قائدین اسرائیل سے مسجد اقصیٰ کا سودا کرکے اپنے تعلقات کو بڑھاتے رہے ہیں… بلکہ بڑھا رہے ہیں  اور اپنے لئے امن خریدنے کی کوشش کررہے ہیں، بالکل اسی طرح ایک ایک کرکے علمائے ہند  دانشوارانِ ملت اور قائدین کرام بابری مسجد کا سودا کرکے حکومت وقت سے اپنے تعلقات بڑھانے اور امن خریدنے کی کوششوں میں لگے رہے جس طرح ایک طبقہ مسجد اقصیٰ کے مسئلہ کو میدان کے بجائے ایوان میں حل کرنے کا خواہشمند رہا ہے بالکل اسی طرح بابری مسجد کے مسئلہ کو بھی میدان کے بجائے ایوان میں حل کرنے کی کوششیں کی گئی جس طرح مسجد اقصیٰ کے مسئلہ کو کبھی UNO  کبھی سلامتی کونسل کے سپرد کیا جاتا ہے اور جس طرح عالم اسلام اور عالم عرب ان طاغوتی عالمی اداروں سے انصاف کی توقع کرکے  شیر سے بکریوں کے تحفظ کی امید لگا کر  جلتی پر تیل ڈالنے والوں سے آگ بجھانے کی آس لے کر  رہزنوں سے رہبری کے خواستگار ہو کر  چین کی نیند سوتے رہتے ہیں بالکل اسی طرح بابری مسجد کے معاملے کو بھی طاغوتی عدالتوں کے حوالے کرکے علماء و قائدین اور رہبرانِ ملت بے فکری سے چین کی بانسری بجاتے رہے خود بھی خوش ہوتے رہے اور عام مسلمانوں کو بھی خوش کرتے رہےجس طرح صہیونی مسجد اقصیٰ کو ڈھا کر اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے ذریعہ گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھ رہے ہیں بالکل اسی طرح ہندو تو ا کے علمبردار بابری مسجد کو ڈھا کر اس کی جگہ فلک بوس رام مندر کی تعمیر کے ذریعہ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

اس کے باوجود مسجد اقصیٰ بڑی خوش قسمت ہے کہ اسے کچھ ایسے جیالے سرفروش اور دیوانے میسر آگئے ہیں جو جوش جہاد اور شوق شہادت سے سرشار ہیں  اور جن کی لازوال قربانیوں اور سرفروشیوں کی بدولت وہ ستر سال کے طویل عرصے میں بے شمار حوادث زمانہ سازشوں کے طوفان بلاخیزمکر و فریب کی آندھیوں  اور موجِ خوں سے گزر کر بھی ابھی تک اپنے وجود کو برار رکھے ہوئے ہے۔

جبکہ بابری مسجد کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ اسے اپنی بقاء اور تحفظ کے لئے سرفروشوں ، جانثاروں ،جیالوں ،جانبازوں  اور دیوانوں کا کوئی گروہ جماعت  یا قوم نصیب نہ ہوسکی بلکہ ایک ایسی قوم مقدر بنی جو اپنے طاقت بازو اور اللہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے طاغوتی عدالتوں پر بھروسہ کرنے والی ہے  جس کے اندر غیرت و حمیت  ہمت و جرأت کی رتی بھر رمق بھی موجود نہیں ہے  جو ایثار و قربانی کے مفہوم سے ناآشنا ہے … جو جوش جہاد اور شوق شہادت کے جذبے سے عاری ہے  جس کے دل کو دنیا کی محبت اور موت سے نفرت نے وہن زدہ کردیا ہے  اس لئے بابری مسجد اپنے وجود کو برقرار نہ رکھ سکی اور شہید کردی گئی‘‘ انا للہ و انا الیہ راجعون’’اور اب ہیکل رام میں تبدیل کی جارہی ہے

مسجد اقصیٰ واقعی خوش قسمت ہے کہ اسے عزالدین قسام جیسا امیر المجاہدین نصیب ہوا جس نے امت کے تن مردہ میں جہاد کی روح پھونکی شیخ  حسن البناء جیسا مرشد نصیب ہوا جس نے اس کے (مسجد اقصیٰ کے ) تحفظ  بقاء  اور آزادی کی خاطر جہاد و شہادت کی راہ دکھلائی  شیخ احمد یٰسین جیسا شیخ الانتفاضہ نصیب ہوا جس نے غلیلوں کے گلٹوں اور پتھروں کے ذریعہ مزاحمت کا سبق پڑھایا عبدالعزیز رنتیسی جیسا رہنما نصیب ہوا جس نے کاروان انتفاضہ کو آگے بڑھایا  یحییٰ عیاش جیسا بطل زعیم نصیب ہوا جس نے اپنی ہنرمندی سے دفاع اقصیٰ کو مضبوطی و پائیداری بخشی ہزاروں مجاہدین نصیب ہوئے جنہوں نے اپنا تن من دھن وار کر اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے اور ہزاروں شہداء کا پاک لہو نصیب ہوا جس نے گلشن اقصیٰ کی آبیاری کی  اسے ویرانی سے بچائے رکھا اور اقصیٰ کے معرکے کو زندہ رکھا۔

 جبکہ بابری مسجد ایسے قائدین ،رہنماؤں ،مجاہدوں  اور ابطال امت کے لئے ترستی رہی ان کی راہ تکتی رہی لیکن کسی میر کارواں کا کوئی کارواں کبھی اس کی گزر گاہوں سے نہ گزراکسی مسافر نے اس کی چاہ میں صحرا نور دی نہیں کی کسی درویش نے اس کی چھاؤں میں پناہ نہ لی کسی سالار قافلہ کا کوئی قافلہ سخت جاں اس کے دامن میں خیمہ زن نہ ہوا نہ کسی قائد نے مزاحمت کا سبق پڑھایا نہ کسی رہنما نے جہاد کی راہ دکھلائی نہ کسی واعظ خوش الحان نے شہادت کی آرزو بڑھائی نہ کسی حکیم نے وہن کا علاج کیا  نہ کسی قوم نے اس کی آبرو وعفت کے تحفظ کی قسم کھائی  نہ کسی گروہ نے اس کی حرمت و تقدیس پر اپنی جان نچھاور کی۔

اس لئے کہ ہم مسلمانان ہند کسی مفلوج اپاہچ کی طرح بستر مرگ پر پڑے رہے موت کے خوف نے ہماری آنکھوں کو بینائی اور دلوں کو بصیرت سے محروم کردیا تھا زندگی سے احمقانہ پیار نے ہمیں اتنا بدحواس کردیا تھا کہ نہ ہمارے سامنے کوئی منزل رہی اور نہ کوئی لائحہ عمل لہٰذا ہم نے بابری مسجد سے دستبرداری میں اپنی نجات سمجھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم مسلمانان ہند نے نہ صرف بابری مسجد گنوادی بلکہ اپنے دیگر شعائر اور شریعت سے لے کر شہریت تک سب کچھ گنوا دینے کے قریب ہیں۔

مسجد اقصیٰ کے تحفظ کا فریضہ انجام دینے والوں کے لئے بابری مسجد اور مسلمانان ہند کا یہ انجام باعث عبرت ہے کہ اگر وہ کبھی مسلمانانِ ہند کی روش پر چلنے لگیں گے عالمی اداروں پر بھروسہ کرنے کی غلطی کریں گے اور مزاحمت سے ہٹ کر مفاہمت کی راہ اپنائیں گے تو مسلمانانِ ہند کی طرح ہی سب کچھ گنوا دینے کے قریب ہوجائیں گے ۔

اسی طرح ہم مسلمانانِ ہند کو بھی فلسطینی مسلمانوں کے طرز عمل سے نصیحت پکڑنی چاہئے اور یہ سیکھ لینی چاہئے کہ نجات کی منزل مزاحمت اور استقامت کی راہ سے گزرتی ہے  نجات مسجد سے دستبرداری میں نہیں بلکہ اس کے تحفظ میں ہے  شہریت کا تحفظ شعائر اور شریعت کے تحفظ پر منحصر ہے  اور یہ کہ مزاحمت اور استقامت سے ہٹ کر جو بھی راہ گزرتی ہے اس کی منزل صرف ہلاکت ہے  تباہی ہے  بربادی ہے  دنیا میں ذلت اور رسوائی ہے  اور آخرت میں عذاب عظیم ہے قرآن کے اس فرمان کے مطابق

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَا اُولٰیِکَ مَا کَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَایِفِیْنَ لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ     (البقرہ :۱۱۴)

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے روکے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے، ایسے لوگوں کو حق نہیں ہے کہ وہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لئے تو دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں عذاب عظیم۔

فلسطینی قوم نے مزاحمت و استقامت کے ماڈل کو اپنا کر اپنے لئے نجات کی راہ تلاش لی اور اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کردیا کہ وہ دنیا میں غلامی کی ذلت و رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم کے بجائے دنیا میں عزت و شرف اور آخرت میں اجر عظیم کے حصول کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں … یا تو ایسی زندگی جئیں گے جو یہودیوں کے اقتدار اور غلامی سے بالکل آزاد ہوگی یا ایسی موت مریں گے جس پر ملائکہ بھی رشک کریں گے۔

یہ قدرت کا قانون ہے کہ جو قوم وقت پر آزادی کی قیمت ادا کرنے  قربانی دینے سے پیچھے ہٹتی ہے تو قدرت اسے غلامی کا تاوان ادا کردینے پر مجبور کرتی ہے اور تاوان ہمیشہ قربانیوں کے مقابلہ کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ جیسے بنی اسرائیل چالیس سال تک بیابانوں میں بھٹکتے پھرے اور قربانی سے اعراض کی بھاری قیمت چکائی۔ ہم مسلمانانِ ہند اگر آج قربانی پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے  مزاحمت اور استقامت کے راستے اختیار نہیں کریں گے تو پھر ضرور غلامی کا تاوان ادا کرنے پر مجبور ہوں گے۔ چاہے نہ چاہے غلامی کے تاوان کی ادائیگی لازمی ہوتی ہے کوئی چھوٹ نہیں ہوتی۔ دیکھنا ہے کہ مسلمانانِ ہند بابری مسجد کی بازیابی اور تعمیر نو کا جذبہ اپنے دلوں میں پروان چڑھا کر دنیا میں غلامی کی ذلت آمیز زندگی سے اپنا دامن چھڑانے اور آزادی، ایمان اور عزت و وقار کی زندگی اپنانے پر رضا مند ہوتے ہیں یا موت سے بھی بدتر زندگی پر رضا مند ہوتے ہیں۔

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے

قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button