اسلامیات

موسم بارش سبقِ اجتماعیت

سحرِ بُلبُل

بارش کی ان خوبصورت بوندوں پر جب نظر پڑھی تو میں نے دیکھا کہ ہر طرف خوش نما منظر کا نور پیھلا ہے۔

میں نے سوچا کہ بارش اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئ ہر بوند جو دوسرے بوند کے ساتھ مل کراس زمین پر برس پڑھی تو مردہ زمین زندہ ہوگئی ۔۔

میں بارش کو اور گہرائی سے سمجھنا چاہتی تھی میں نے قرآن کھولا۔۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم

آیت نمبر 48

ترجمہ:

اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ اِن بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے، پھر تُو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل سے ٹپکے چلے آتے ہیں یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم

آیت نمبر 50

ترجمہ:

دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلا اٹھاتا ہے، یقیناً وہ مُردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔

پانی کی ان بوندوں کا کام پینے، برتنے،دھول گندگی کو دھو کر  صاف ستھرا منظر آنکھوں پیش کرنا ہےوہی وہ مردہ زمین کو زندگی بخشنا ہے۔۔

اسی طرح ہم راہ حق کے  علمبرداروں کا مقصد حیات ہے کہ خدا کی اس سرزمین پر بسنے والے بندوں کو خدا کی ذات سے روشناس کرائے۔۔

اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم سے ہر فرد اپنی اخلاص نیت اور اپنی ایمانی و جسمانی صلاحیتوں کے ساتھ برسنے لگے… تاکہ ہم بھی دلوں کی سر زمیں کو نور الہی سے چمکتا ہوا دیکھ سکے…

ہمیں ہر میدان میں جم کر اپنی صلاحیتوں کی بارش کرنی ہوگی…

 یہ بارش کی بوندیں مجھے اجتماعیت کا سبق دے رہی ہے کہ خدا کے حق کے علمبرداروں تمھیں بھی دلوں کی سرزمیں پر صلاحیتوں کے ساتھ برسنا ہوگا…

جو دل خدا کی یاد سے غافل ہے اور جو دل خدا سے ناآشنا ہے وہ اپنے رب کریم سے آشنا ہو کر اس کی یاد سے اطمینان پاسکے…

صـیبا نافعا (بخاری)

اے اللہ مسلسل برسنے والی نفع دینے والی بارش کا سوال کرتے ہیں..

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button