Sliderاسلامی تحقیقاتقرآنیات

موضح قرآن: ایک تعارف

 شاہ عبد القادر دہلویؒ کے ترجمۂ قرآن اور تفسیری حواشی کا مطالعہ

 ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

(معاون مدیر سہ ماہی تحقیقات اسلامی)

برِّ صغیر ہند میں قرآن و سنت کی تعلیم عام کرنے اور خاص طور پر قرآن فہمی کی تحریک چلانے اور عوام میں اس کا ذوق پیدا کرنے کے سلسلے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (۱۱۱۴۔۱۱۷۶ھ/۱۷۰۳۔۱۷۶۲ئ) اور ان کے خانوادے کا اہم کردار ہے۔ شاہ صاحب نے فارسی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ا ور مختصر حواشی لکھے۔فارسی زبان ہی میں اصول تفسیر پر ایک رسالہ ’الفوز الکبیر‘ کے نام سے تصنیف کیا،نیزترجمۂ قرآن کے اصول پر ایک رسالہ ’مقدمۃ فی قوانین الترجمۃ‘ کے نام سے تصنیف کیا۔ عربی زبان میں ایک کتاب ’فتح الخبیر‘ لکھی۔ ان کے بڑے صاحب زادے شاہ    عبد العزیزؒ (۱۱۵۹۔۱۲۳۹ھ/۱۷۴۶۔ ۱۸۲۴ء )نے فارسی زبان میں تفسیر لکھی، جو’فتح العزیز‘ اور ’تفسیر عزیزی‘ کے نام سے معروف ہے اورچار جلدوں میں سورۂ فاتحہ، سورۂ بقرہ اور آخری دو پاروں (۲۹۔۳۰) کی تفسیر پر مشتمل ہے۔ دوسرے صاحب زادے شاہ رفیع الدین (۱۱۶۳۔ ۱۲۳۳ھ / ۱۷۵۰۔۱۸۱۸ء ) نے اردو زبان میں قرآن کا لفظی ترجمہ کیا۔ تیسرے صاحب زادے شاہ عبد القادرؒ (م۱۲۳۰ھ/۱۸۱۴ء ) نے اردو میں قرآن کا با محاورہ ترجمہ کیا اور مختصر حواشی لکھے۔ خاندانِ ولی اللٰہی کا یہ اتنا بڑا  شَرَف ہے کہ برِّ صغیر ہند میں اور کوئی خاندان اس کا مماثل نہیں ہے۔ خاص طور پر شاہ عبد القادرؒ کا ترجمہ بے مثال ندرت رکھتا ہے۔ بعد کے تمام مترجمینِ قرآن نے اس کا اثر قبول کیا ہے اور اس سے استفادہ کیا ہے۔

شاہ عبد القادرؒ۔ مختصر حالاتِ زندگی

شاہ عبد القادر ؒ کی ولادت ۱۱۶۷ھ/۱۷۵۳ء میں دہلی میں ہوئی۔ ان کی تعلیم و تربیت اپنے والد مکرم کے زیرِ سایہ ہوئی۔ان کے انتقال کے بعد وہ اپنے بڑے بھائی شاہ عبد العزیز ؒکی تربیت میں رہے۔انہی سے علوم دینیہ کی تکمیل کی۔وہی آخر وقت تک ان کی کفالت کرتے رہے۔وہ روزانہ ان کے لیے دو وقت کھانا بھجوادیا کرتے تھے اورسال میں دو جوڑے کپڑے سلوادیتے تھے۔ ۱؎  بعض حضرات نے لکھا ہے کہ شاہ صاحب نے اردو زبان کی تحصیل کے لیے خواجہ میر درد(م ۱۱۹۹ھ/ ۱۷۸۵ئ) کی صحبت اختیار کی۔ ۲؎

تحصیلِ علم سے فارغ ہونے کے بعد شاہ عبد القادرؒ نے مسجدِ اکبری کو اپنی جائے قیام بنایا۔اس مسجد کی تعمیرمغل حکم راں شاہ جہاں (م۱۰۷۶ھ/۱۶۶۶ئ) کی بیگم نواب اعزاز النسا ء عرف اکبرآبادی بیگم نے۱۰۶۰ھ/۱۶۵۰ء میں کروائی تھی۔یہ نہایت شان دار اور خوب صورت مسجد تھی، جس کے گرد طالب علموں کے رہنے کے لیے حجرے بنے ہوئے تھے۔سر سید احمد خاں نے اپنی کتاب ’آثار الصنادید‘ میں اس مسجد کی خوب صورتی اور شان و شوکت کا تذکرہ کیا ہے اور اس کا محلِّ وقوع، حدودِ اربعہ اور دیگر تفصیلات بیان کی ہیں۔ ۳؎  ۱۸۵۷ء کے بعد انگریزوں نے اس مسجد کو مکمل طور سے مسمار کرکے اس جگہ ایک پارک بنا دیا تھااور اسے ایڈورڈ پارک کے نام سے موسوم کیا تھا۔ ۴؎  شاہ صاحب نے پوری زندگی اسی مسجد کے ایک حجرے میں گزار دی۔وہ اس میں قائم مدرسے میں طلبہ کو قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر مضامین کا درس دیتے تھے۔وہ فلسفہ و منطق میں بھی درک رکھتے تھے۔ مجسطی بڑی مہارت سے پڑھاتے تھے،لیکن ان کی تحریریں فلسفیانہ اثرات سے پاک تھیں۔ مولانا محمد فاروق خاں نے لکھا ہے:

’’ حیرت ہوتی ہے کہ جس زمانے میں عام اہلِ علم کے افکار و نظریات پر یونانی فلسفہ کا اثر غالب تھا، اس زمانے میں شاہ صاحب کی تحریر اس کے اثرات سے بالکل پاک رہی۔ اسے ان کی سلامتیٔ طبع اور قرآن کریم کے فیض و اثر کا کرشمہ ہی کہا جائے گا۔ ۵؎

شاہ صاحب سے بہت سے لوگوں نے استفادہ کیا۔ ان میں شیخ عبد الحی بڑھانوی،سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید، شیخ فضل حق  خیرآبادی، مرزا حسن علی شافعی، شاہ محمد اسحاق، مولانا سید اسحاق رائے بریلوی، مولانا سید محبوب علی جعفری، حکیم غلام حیدر خاں، مولوی رشید الدین خاں اور آخون شیر محمدخصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ۶؎  وہ لوگوں میں وعظ بھی کرتے تھے۔

شاہ صاحب تقویٰ و پرہیزگاری کے بلند مقام پر فائز تھے۔ اس بنا پر نہ صرف ان کا پورا خاندان، بلکہ دہلی کے رؤسا اورعوام بھی ان کی تعظیم و توقیرکرتے تھے۔اس کے ساتھ ان کی شخصیت نہایت باوقار تھی۔ بڑے بڑے رؤسا ان کی خدمت میں آتے تو مرعوب ہوجاتے تھے۔ ۷؎ انھوں نے قناعت کے ساتھ بہت سادہ زندگی گزاری۔طبیعت میں استغنا اوردنیا سے نفور تھا۔ بہت متواضع انسان تھے۔ مسجد اکبرآبادی کے دونوں طرف بازار تھا۔ مسجد کے دونوں طرف حجرے اور شہ دریاں تھیں۔ وہ اپنے حجرے سے باہر شہ دری میں ایک پتھر پر بیٹھ جاتے اور بازار آنے جانے والے انھیں سلام کرتے۔  ۸؎

شاہ صاحب کے صرف ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ اس کا نکاح انھوں نے اپنے بھتیجے مولوی مصطفیٰ سے کردیا تھا۔ان سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، جو مولانا اسماعیل شہیدؒ کی زوجیت میں آئی۔ان کے پاس کچھ جائیداد تھی، جو انھوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنی بیٹی اور بھائیوں کے نام کرد ی تھی۔

شاہ صاحب نے ۱۲۳۰ھ/۱۸۱۴ء میں ترسٹھ(۶۳) برس کی عمر میں وفات پائی اور اپنے جدِّ امجد شاہ عبد الرحیمؒ کے برابرمیں دفن ہوئے۔

ترجمۂ قرآن

شاہ عبد القادرؒنے تصنیف و تالیف کی طرف توجہ نہیں کی۔انھیں قرآن مجید سے غیر معمولی شغف تھا۔ مسجد اکبر آبادی میں وہ چالیس برس تک اعتکاف کے انداز میں قیام پذیر رہے۔ قرآن پڑھنے پڑھانے کے علاوہ ان کا کوئی اورمشغلہ نہیں تھا۔یہیں بیٹھ کر انھوں نے بارہ برس کی طویل مدّت میں اردو زبان میں قرآن مجید کاترجمہ کیا اور اس پر مختصر حواشی لکھے۔ ۹؎

شاہ صاحب نے اپنے ترجمۂ قرآن کا تعارف اپنے مقدمہ میں یوں کرایا ہے:

’’کلام پاک، اس کا عربی زبان ہے اور ہندوستانی کو اس کا ادراک محال۔ اس واسطے اس بندۂ عاجز عبد القادر کو خیال آیا کہ جس طرح ہمارے والد بزرگوار حضرت شیخ ولی اللہ بن عبد الرحیم محدث دہلویؒ ترجمۂ فارسی  کر گئے ہیں، سہل اور آسان، اب ہندی زبان میں قرآن شریف کا ترجمہ کرے۔ الحمد للہ کہ سنہ بارہ سو پانچ(۱۲۰۵ھ) میں میسّر ہوا۔ اب کئی باتیں معلوم رکھیے: اوّل یہ کہ اس جگہ لفظ بہ لفظ ضرور نہیں، کیوں کہ ترکیب ِہندی ترکیب ِعربی سے بہت بعید ہے۔ اگر بعینہ وہ ترکیب رہے تو معنیٰ مفہوم نہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ اس میں زبان ریختہ نہیں بولی، بلکہ ہندی متعارف، تا عوام کو بے تکلّف دریافت ہو۔…اس کتاب کا نام’موضح قرآن‘ ہے۔ یہی اس کی صفت ہے اور یہی اس کی تاریخ (۱۲۰۵ھ)ہے۔ ۱۰؎

ایڈیشن اور تراجم

اس ترجمے کے بہت سے اڈیشن منظر عام پر آئے ہیں۔ ان کا تفصیلی ذکر بلوم ہارٹ نے انڈیا آفس لندن اور برٹش میوزیم کی فہرستوں ( کتب مطبوعہ) میں کیا ہے۔ ۱۱؎  پہلی مرتبہ یہ ترجمہ سید عبد اللہ بن سید بہادر علی نے ۱۲۴۵ھ/۱۸۲۹ء میں مطبع احمدی کلکتہ سے طبع کروایا تھا۔ ۱۲؎ لیکن اس اڈیشن میں ترجمہ اور حواشی میں جزوی ترمیم اور اصلاح کر دی گئی تھی۔دوسرا اڈیشن ۱۲۵۳ھ/۱۸۳۷ء میں کلکتہ سے منظر عام پر آیا۔ یہ دو جلدوں پر مشتمل تھا۔ پہلی جلد ابتدا سے سورۂ کہف تک اور دوسری جلد سورۂ مریم سے آخر تک۔ ایک اڈیشن کلکتے سے ۱۸۷۶ء میں رومن رسم الخط میں انگریز پادری P.T.Hughes کے دیباچہ اور پادری E.M.Wherryکے اڈیشن کے ساتھ شائع ہوا تھا۔ اسے مشنریوں کی سہولت کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ۱۳؎  ہند و پاک میں موضح قرآن کے بہت سے اڈیشن شائع ہوئے۔مولانا اخلاق حسین قاسمی نے اٹھارہ نسخوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ۱۴؎  اس معاملے میں تاج کمپنی کا نام خصوصیت سے قابلِ ذکر ہے، جس نے متعدد اڈیشن مختلف حجموں میں شائع کیے۔اس کا پشتو ترجمہ محمد فتح اللہ قندھاری نائب مفتی ریاست بھوپال نے کیا، جو۱۲۷۸ھ/۱۸۶۱ء  میں مطبع سکندری بھوپال سے طبع ہوا۔ ۱۵؎  انڈیا آفس کی فہرست میں تامل، پنجابی، ہندی اور افغانی زبانوں کے ان تراجم کا بھی تذکرہ ہے جو شاہ صاحب کے ترجمے سے ان زبانوں میں کیے گئے ہیں۔ اسی فہرست میں ایک انگریز مصنف کی اس تصنیف کا بھی ذکر ہے جو شاہ صاحب کے ترجمہ اور فوائد کے انڈکس پر مشتمل ہے۔ یہ لدھیانہ میں ۱۸۹۹ء میں طبع ہوئی ہے۔ ۱۶؎

ترجمہ کی اہمیت، اہلِ علم کی نظر میں

شاہ عبد القادرؒ سے قبل بھی اردو زبان میں بعض ترجمے ہوئے تھے، لیکن وہ یا تو طبع نہ ہو سکے،یا انھیں مقبولیت نہ مل سکی اور ان کے قلمی نسخے لائبریریوں کی زینت بن کر رہ گئے،جب کہ شاہ صاحب کے ترجمۂ قرآن کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اسے علمی حلقوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔اس کی تعریف و تحسین بہت سے مترجمینِ قرآن، مفسرین، مؤرخین،سوانح نگاروں اور علما نے کی ہے۔ ذیل میں صرف چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں۔

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے اپنے ترجمۂ قرآن کے مقدمے میں شاہ صاحب کے ترجمۂ قرآن پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا ہے اور مثالوں کے ذریعے اس کے محاسن نمایاں کیے ہیں۔ اس کے بارے میں فرماتے ہیں :

’’ترجمۂ موصوف جملہ تراجم میں ممتاز اور مفید تر نظر آتا ہے اور بہ نظر فہم و انصاف اس کا مستحق ہے کہ سہل ممتنع کے ساتھ ملقّب ہو۔ یہ حضرت ممدوح کا کمال ہے کہ ہر موقع پر جملہ امور پیش نظر رہتے ہیں اور ترجمہ میں حسب ِحاجت ان کی رعایت کرتے ہیں اور اسی کے مطابق الفاظ بھی ان کو بہ سہولت مل جاتے ہیں۔ گویا محاورات و لغات اردو بھی سب سامنے رہتے ہیں۔ جس کو مناسب سمجھا، بے تکلّف لے لیا اور اس پر ترجمہ اپنے محدود احاطہ سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ۱۷؎

بابائے اردو مولوی عبد الحق نے لکھا ہے:

’’ شاہ عبد القادر کا ترجمہ بہت مقبول اور مشہور ہوا اور ابھی تک قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ ترجمہ ٹھیٹ اردو میں ہے۔اس کا سب سے بڑا کما ل یہ ہے کہ عربی الفاظ کے لیے ہندی یا اردو کے ایسے برجستہ اور بر محل الفاظ ڈھونڈ نکالے ہیں کہ ان سے بہتر ملنا ممکن نہیں …شاہ عبد القادر کے ترجمے میں (شاہ رفیع الدین کی طرح) لفظی پابندی نہیں کی گئی ہے، بلکہ وہ مفہوم کی صحت اور اصل لفظ کے حسن کو برقرار رکھنے کے علاوہ اردو زبان کے روز مرّے اور محاورے کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ دوسری خوبی ان کے ترجمے میں ایجاز کی ہے۔ یعنی وہ ہمیشہ اس بات کو مدّنظر رکھتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو، کم سے کم الفاظ میں مفہوم صحت کے ساتھ ادا ہو جائے۔‘‘  ۱۸؎

مولانا فتح محمد جالندھری فرماتے ہیں :

’’ اس بات پر علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ اردو میں شاہ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمۂ قرآن اپنے وقت کی زبان کے اعتبار سے نہایت خوش محاورہ تھا اور حقیقت میں اس کے چھوٹے چھوٹے جملے، میٹھے میٹھے الفاظ، اس کی پیاری پیاری زبان ایسی ہے کہ اب بھی جو سنتا ہے، سر دھنتا ہے۔‘‘  ۱۹؎

علامہ انور شاہ کشمیری اپنے شاگردوں کو نصیحت کیا کرتے تھے کہ ’’شاہ صاحب کا ترجمہ دیکھو۔ بعض مسائل جو تفسیر سے حل نہیں ہوتے وہ اس ترجمے سے حل ہو جاتے ہیں۔ ‘‘ ۲۰؎مولانا مظہر نانوتوی( بانی مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور) تفسیر پڑھانے کے بعد سب سے آخر میں شاہ صاحب کا ترجمہ پڑھاتے تھے۔‘‘ ۲۱؎مولانا محمد یعقوبؒ(دار العلوم دیوبند کے پہلے صدر مدرس) اس ترجمے کو الہامی قرار دیتے تھے۔ ۲۲؎

مولانا ابو الکلام آزادؒ نے لکھا ہے:

’’ شاہ عبد القادر دہلویؒ کی سب سے بڑی خدمت، جس میں اردو زبان ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی، یہ ہے کہ انھوں نے اس وقت قرآن مجید کا ترجمہ کیا جب زبان بالکل طفولیت کی حالت میں تھی اور نثر نویسی بھی پوری طرح شروع نہیں ہوئی تھی۔ ایسا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو زبان ڈھالنے والے ہوتے ہیں۔ ‘‘ ۲۳؎

جناب رحیم بخش دہلوی نے لکھا ہے:

’’ قرآن مجید کا سلیس اور ٹھیٹھ اردو ترجمہ جس خوش اسلوبی اور انوکھے پیرایے میں آپ نے کیا ہے، اظہر من الشمس ہے۔ دیکھنے میں نہایت سہل و مختصر، لیکن حقیقت میں دقیق و باریک مطالب سے لب ریز۔ تلفّظ میں نہایت آسان، مگر عمیق مضامین سے پُر۔چھوٹے چھوٹے مگر فصاحت و بلاغت میں ڈوبے ہوئے جملوں سے وہ حیرت انگیز مضامین کا سمندر ابل رہا ہے جو انسانی طاقت سے بالکل باہر نظر آتا ہے۔ قرآن مجید کے ادق اور غامض مسئلوں کو ایسے سہل اور آسان طریقے سے بیان کرنا، جس سے عالم و جاہل دونوں یکساں متمتع ہو سکیں، غیبی تائید نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘ ۲۴؎

مولانا ابو الحسن علی ندوی فرماتے ہیں :

’’آپ پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی عنایت یہ تھی کہ آپ کو ہندوستانی زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کی توفیق ملی۔ علما نے اس کی بڑی قدر دانی کی اور اسے معجزاتِ نبوی میں سے ایک معجزہ قرار دیا… اس کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ انھوں نے زبان کے مقابلے میں ایسی زبان اختیار کی جس میں عموم و خصوص اور اطلاق و تقیید اور محلِ استعمال کا پورا لحاظ ہے۔ یہ اللہ کی ایسی عنایت ہے جس کے لیے وہ چند ہی لوگوں کو مخصوص کرتا ہے۔ …مختلف مثالوں سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ شاہ صاحب کو عربی زبان و ادب کا جیسا صحیح ذوق اور قرآنی الفاظ کی روح اور طاقت اور منشا کے مطابق اردو کے الفاظ کے انتخاب میں جو کام یابی حاصل ہوئی ہے اس کی نظیر کم سے کم ہندوستان میں نہیں ہے اور بعض مقامات پر وہ علامہ زمخشری اور راغب اصفہانی جیسے علمائے بلاغت و ائمۂ لغت سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ تائید الٰہی، اعلیٰ درجہ کے اخلاص اور وہبی ادبی اور لسانی صحیح ذوق کے سوا کسی چیز سے اس کی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔ ۲۵؎

 مولانا محمدفاروق خاں نے لکھا ہے:

’’ شاہ صاحب نے قرآن پاک کا بول چال کی زبان میں ایسا ترجمہ فرمایا جس کی خوبیوں کا اعتراف سب ہی کو ہے۔ یہ ترجمہ اگرچہ نہایت سیدھا سادہ ہے، لیکن اس کی اہمیت کا انداز ہ صحیح معنوں میں وہی کر سکتا ہے جس کو ادب اور علم تفسیرو حدیث سے وافر حصہ ملا ہو، جس کو تفسیر کے سلسلے کی دشواریوں کا صحیح اندازہ ہو، جسے اس کا پتہ ہو کہ قرآن کے بعض مفردات کی شرح میں کیسی کیسی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ شاہ صاحب ترجمہ میں بعض اوقات ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ ذہن و دماغ کی کاوش کا نتیجہ نہیں، بلکہ الہامی محسوس ہوتے ہیں۔ ‘‘ ۲۶؎

ترجمہ کی خصوصیات و امتیازات

شاہ عبد القادرؒ کے ترجمے میں بہت سی فنّی خوبیاں ہیں۔ یہ خوبیاں لسانی، ادبی، بلاغی اور علمی،متعدّد پہلوؤں سے ہیں۔ مولانا محمود حسنؒ نے ان خوبیوں کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:

’’حضرت ممدوح عامۃً چند باتوں کا بہت لحاظ رکھتے ہیں۔ ترجمے میں اختصار و سہولت اور الفاظِ قرآنی کی لفظی و معنوی موافقت اور صرف لغوی معنیٰ پر بس نہیں، بلکہ معنیٰ مرادی اور غرض اصلی کا ہر موقع میں بہت لحاظ رکھتے ہیں اور ترجمہ میں کبھی ایسا لفظ لاتے ہیں جس کی وجہ سے اگر کسی قسم کا اجمال اور اشکال ہو تو زائل ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات ایک لفظ کا ترجمہ ایک جگہ کچھ فرماتے ہیں، دوسری جگہ کچھ اور، حالاں کہ معنیٰ لغوی اس لفظ کے ایک ہی ہیں، مگر ہر مقام کے مناسب جدا جدا عنوان سے بیان فرماتے ہیں، جس سے قرآن کی غرض اور مراد سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ اسی سہولت اور وضاحت کی رعایت سے کبھی مضمون ِایجابی کو عنوان ِسلبی میں ادا کرتے ہیں اور اکثر مواقع میں نفی اور استثنا کا جدا جدا ترجمہ نہیں کرتے، بلکہ حصر، جو اس کا مقصود ہے، اس کو مختصر ہلکے لفظوں میں محاورہ کے موافق بیان کرجاتے ہیں۔ حال، تمیز، بدل وغیرہ، حتیٰ کہ مفعول مطلق کے عنوانات کی رعایت رکھتے ہیں اور خوبی یہ ہے کہ اردو کے محاورے، بالجملہ الفاظ اور معانی دونوں کے متعلق بوجوہ متعددہ بہت غور اور رعایت سے کام لیا ہے اور مطالب و مقاصد کی تسہیل اور توضیح میں پورے خوض اور احتیاط کو ملحوظ رکھا ہے۔‘‘ ۲۷؎

مولانا محمود حسنؒ نے مثالوں کے ذریعے مذکورہ خوبیوں کی وضاحت کی ہے۔ یہاں تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے۔صرف چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، جن سے شاہ صاحب کے ترجمے کی خوبیوں کا اندازہ ہوگا:

٭  قَدْ یَعْلَمُ اللَّہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُونَ مِنکُمْ لِوَاذاً (النور:۶۳)

’’ اللہ جانتا ہے ان لوگوں کو تم میں سے جو سٹک جاتے ہیں آنکھ بچا کر۔‘‘

مترجمین نے ’یَتَسَلَّلُونَ‘ کا ترجمہ کھسک جانا، چھپ کر نکل جانا، جلدی نکل جانا وغیرہ کیا ہے۔ سٹک جانا سانپ کے نکلنے کو کہتے ہیں۔ سٹک چھوٹے سانپ کو کہا جاتا ہے، جو نہایت پھرتی سے کھسک جاتا ہے۔ اس محاورہ میں دیگر تعبیرات کے مقابلے میں زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے۔

٭  وَأَنْ أَلْقِ عَصَاکَ فَلَمَّا رَآہَا تَہْتَزُّ (القصص:۳۱)

’’اور یہ کہ ڈال دے اپنی لاٹھی، پھر جب دیکھا اس کو پھنپھناتے۔‘‘

’اھتزّ‘ کے معنیٰ حرکت کرنے اور ہلنے کے آتے ہیں۔ مترجمین نے اس کے لیے لہرانے اور حرکت کرنے کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ شاہ صاحب نے اس کے لیے ’پھنپھناتا‘ استعمال کیا ہے، جو اردو میں سانپ کی حرکت کے لیے خاص ہے۔

٭  وَأُحِیْطَ بِثَمَرِہِ فَأَصْبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیْْہِ (الکھف:۴۲)

’’ اور سمیٹ لیا اس کا سارا پھل، پھر صبح کو رہ گیا ہاتھ نچاتا۔‘‘

مترجمین نے ’ یُقَلِّبُ کَفَّیْْہ‘ کا ترجمہ  ’ہاتھ ملتا‘، ’ہتھیلیاں ملتا‘ کیا ہے۔شاہ صاحب نے اردو محاورہ کی رعایت سے اس کا ترجمہ ’ہاتھ نچاتا‘ کیا ہے۔

٭  إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرٰکَ بَعْضُ آلِہَتِنَا بِسُوَء ٍ (ہود:۵۴)

’’ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تجھ کو جھپٹ لیا ہے کسی ہمارے ٹھاکروں نے بُری طرح۔‘‘

’اعترائ‘ کے معنیٰ واقع ہونا، پیش آنا، پہنچنا وغیرہ ہے۔یہ لازم ہے، جسے ’ب‘ کے ساتھ متعدی بنایا گیا ہے۔’بسوئ‘ کو بعض مترجمین نے مفعول ثانی سمجھ کر ترجمہ کیا ہے۔ شاہ صاحب نے اسے فعل سے متعلق مانا ہے۔ اردو میں ’جھپٹنا‘ مصدر ہے۔ اس کے معنیٰ ’حملہ کرنے کے لیے کسی کی طرف لپکنا‘ آتے ہیں۔ اچانک حملے کو ’جھپٹ‘ کہتے ہیں۔ شاہ صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا کہ تجھے ہمارے کچھ دیوتاؤں نے جھپٹ لیا ہے، تبھی تیری عقل خراب ہو گئی ہے۔

 وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ إِلَی حِمْلِہَا لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْْء ٌ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبَیٰٓ(فاطر:۱۸)

’’ اور اگر پکارے کوئی بوجھوں مرتا اپنا بوجھ بٹانے کو، کوئی نہ اٹھاوے اس میں سے، اگرچہ ہو ناتے والا۔‘‘

’مُثْقَلَۃٌ‘ کا ترجمہ مترجمین ِ قرآن نے عام طور پر’ گراں بار‘،’بوجھل‘،’بوجھ والا‘ جیسے الفاظ سے کیا ہے، جب کہ شاہ صاحب نے اس کا ترجمہ’بوجھوں مرتا‘ کیا ہے۔ اس میں بڑی معنویت پائی جاتی ہے۔ اس میں عربی لغت اور قرآنی مراد دونوں کی رعایت کی گئی ہے۔ ہر بوجھ اٹھانے والا دوسروں کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے نہیں پکارتا۔ وہی شخص پکارتا ہے جس سے اپنا بوجھ برداشت نہیں ہوتا اور وہ اس میں دب کر پریشان ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ’بوجھوں مرتا‘ بڑا موزوں ہے۔ شاہ صاحب نے دوسری رعایت یہ کی ہے کہ’بوجھ اٹھانے کو‘ ترجمہ نہیں کیا، بلکہ ’بوجھ بٹانے کو ‘ کیا۔ کیوں کہ ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کا پورا بوجھ اپنے اوپر نہیں لے سکتا، ہاں اس کا بوجھ کچھ ہلکا کر سکتا ہے۔ اس لیے انھوں نے ’ حِمْلِہَا‘ کا ترجمہ ’بوجھ بٹانے کو‘ کیا۔

٭  خُذُوہُ فَاعْتِلُوہُ إِلَی سَوَآء  الْجَحِیْمِ(الدخان:۴۷)

’’ پکڑو اس کو اور دھکیل لے جاؤ بیچو بیچ دوزخ کے۔‘‘

مترجمینِ قرآن نے ’فَاعْتِلُوہُ‘ کا ترجمہ ’گھسیٹو‘ اور ’کھینچو‘ جیسے الفاظ سے کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں شاہ صاحب کے ترجمے’دھکیل لے جاؤ‘ میں زیادہ معنویت پائی جاتی ہے۔ اس لیے کہ جہنم ایک پست مقام ہے۔ اسی لیے اسے’ہاویۃ‘ بھی کہا گیا ہے۔پستی کی طرف لے جانے کے لیے ’دھکیلنا‘زیادہ موزوں ہے،’گھسیٹنا‘ اور ’کھینچنا‘ بلند یا ہموار جگہ پر ہوتا ہے۔

٭  ذَلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمٰنِکُمْ(المائدۃ:۸۹)

’’ یہ اتارہ ہے تمھاری قسموں کا۔‘‘

مترجمینِ قرآن نے عام طور پر ’کفارۃ‘ کا ترجمہ نہیں کیا ہے۔ اسے ایک اصطلاح کے طور پر لیا ہے۔ لیکن شاہ صاحب نے اس کا ترجمہ ’اتارہ‘ سے کیا ہے۔ ’ اتارہ‘ اردو میں کسی چیز کو کسی شخص کے سر کے چاروں طرف پھرا کر صدقہ کرنے کو کہتے ہیں۔

 ٭  وَأَسْبَغَ عَلَیْْکُمْ نِعَمَہُ ظَاہِرَۃً وَبَاطِنَۃً (لقمان:۲۰)

’’اور بھر دیں تم کو اپنی نعمتیں کھلیں اور چھپیں۔ ‘‘

’َأَسْبَغَ‘ کا ترجمہ عام طور پر مترجمین نے ’پورا کرنا‘ کیا ہے۔ شاہ صاحب نے محاورہ کی رعایت سے ’بھرنا‘ استعمال کیا ہے۔

٭  الَّذِیْنَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ الصَّدَقٰتِ (التوبۃ:۷۹)

’’وہ جو طعن کرتے ہیں دل کھول کر خیرات کرنے والے مسلمانوں کو۔‘‘

مترجمین نے ’ الْمُطَّوِّعِیْن‘ سے نفلی صدقہ کرنے  والے مراد لیے ہیں۔ ’تطوّع‘ شوق اور رغبت سے کام کرنے کے معنیٰ میں آتا ہے۔ شاہ صاحب کے ترجمے میں بڑی بلاغت پائی جاتی ہے۔

٭  لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ(الفتح:۱۸)

’’ اللہ خوش ہوا ایمان والوں سے جب ہاتھ ملانے لگے تجھ سے اس درخت کے نیچے۔‘‘

مترجمینِ قرآن نے ’یُبَایِعُونَ‘کاترجمہ عام طور پر ’بیعت کرنا‘ ہی کیا ہے، لیکن شاہ صاحب نے اس کا ترجمہ اردو محاورہ سے کیا۔ اردو میں ’ہاتھ ملانا‘ اسی معنیٰ میں استعمال کیا جاتا ہے جس میں اصطلاحِ تصوّف میں ’بیعت‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

 ٭  رَبَّنَاأَفْرِغْ عَلَیْْنَا صَبْراً وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ(الاعراف:۱۲۶)

’’اے رب! دہانے کھول دے ہم پر صبر کے اور ہم کو مار مسلمان۔‘‘

عربی زبان میں ’فرغ الاناء فراغاً‘ کے معنیٰ ’برتن کا خالی ہونا‘ اور’أفرغ الاناء افراغاً‘ کے معنیٰ’ برتن کو خالی کرنا، پانی گرادینا‘ ہوتا ہے۔ عام طور پر مترجمین ِ قرآن نے’ أَفْرِغْ عَلَیْْنَا صَبْراً‘ کا ترجمہ’ ہم پر صبر ڈال دے‘،’ہمیں صبر عطا فرما‘،’ہم پر صبر کا فیضان کر‘ جیسے الفاظ سے کیا ہے۔ شاہ صاحب کا ترجمہ ان کی قرآن فہمی اور زبان دانی کا بہترین نمونہ ہے۔ اس میں جو زور پایا جاتا ہے وہ اہل ِ زبان سے مخفی نہیں۔

شاہ صاحب نے بعض مقامات پر دیگر مفسرین سے ہٹ کر ترجمہ کیا ہے، جس سے ان کی نکتہ آفرینی کا اظہار ہوتا ہے۔ ذیل میں بعض مثالیں پیش کی جاتی ہے:

٭  وَقِیْلِہِ یٰرَبِّ إِنَّ ہٰٓؤُلَآء  قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُونَ (الزخرف:۸۸)

اس آیت کی ابتدا میں پائے جانے والے ’و‘ کوزیادہ تر مترجمین و مفسرین نے عطف کا مانا ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے، لیکن شاہ عبد القادر نے اسے قسمیہ مانا ہے اور یہ ترجمہ کیا ہے:

’’قسم ہے رسول کے اس کہنے کی کہ اے رب! یہ لوگ ہیں کہ یقین نہیں لاتے۔‘‘ ۲۸؎

٭ إِن تَتُوبَا إِلَی اللَّہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا (التحریم:۴)

اس آیت میں اللہ کے رسول ﷺ کی دو ازواج مطہرات کا تذکرہ ہے۔ بہت سے مترجمین و مفسرین نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے: ’’تمھا ر ے  دل ٹیڑھے ہو گئے ہیں۔ ‘‘ لیکن شاہ صاحب اس ترجمہ کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک ’صغو‘ کے معنیٰ ٹیڑھے ہونے کے نہیں، بلکہ جھکنے کے آتے ہیں۔ وہ یہ ترجمہ کرتے ہیں :

’’ تو جھک پڑے ہیں دل تمھارے۔‘‘  ۲۹؎

شاہ صاحب کے ترجمے کی ایک خوبی ’ایجاز ‘ہے۔ وہ مختصر الفاظ اور چھوٹی عبارتوں میں بڑی بات کہہ جاتے ہیں اور ان کے ترجمے سے کلامِ الٰہی کی بلاغت بہ خوبی ظاہر ہوتی ہے۔ انھوں نے دیگر مترجمین کی طرح معانی کی وضاحت کے لیے ترجمہ میں قوسین کا استعمال نہیں کیا ہے۔ ڈاکٹر سید حمید شطاری لکھتے ہیں :

’’اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ دیگر مترجمین کی طرح قرآن کا مطلب واضح کرنے کے لیے قوسین میں اپنی جانب سے بڑھائے ہوئے الفاظ سے مبرّا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر لفظ کا ترجمہ اس کے نیچے ہونے اور پھر عبارت کے با محاورہ رہنے کا کمال اس ترجمے میں ملتا ہے۔‘‘ ۳۰؎

حواشی قرآن

شاہ صاحب نے پہلے صرف ترجمے پر اکتفا کیا تھا۔ بعد میں لوگوں کی خواہش پر کچھ حواشی بھی تحریر فرمائے۔ انھوں نے ’موضحِ قرآن‘ کے مقدمے میں لکھا ہے:

’’اول فقط ترجمۂ قرآن ہوا تھا۔ بعد اس کے لوگوں نے خواہش کی تو بعضے فوائد بھی متعلق تفسیر داخل کیے۔ اس فائدے کے امتیاز کو صرف ’ف‘ نشان رکھا…اس کتاب کا نام ’ موضح قرآن‘ ہے اور یہی اس کی صفت ہے اور یہی اس کی تاریخ( ۱۲۰۵ھ)ہے۔‘‘ ۳۱؎

حواشی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلویؒ فرماتے ہیں :

’’ شاہ صاحب نے جس طرح اردو ترجمے میں اختصار کے باوجود کلامِ الٰہی کی لفظی فصاحت و بلاغت اور معنوی نکات و لطائف کا اظہار کیا ہے اسی طرح تفسیری فوائد بھی نہایت عجیب و غریب حکیمانہ نکتوں پر مشتمل ہیں۔ فقہی مسائل کی تشریح میں تو شاہ صاحب اپنے حنفی مسلک کی پابندی کرتے ہیں، لیکن عقائد و کلام کے مسائل میں ان کے یہاں اجتہادی شان نظر آتی ہے۔ ‘‘ ۳۲؎

 مولانا محمد فاروق خاں نے لکھا ہے:

’’یہ حواشی بھی بیش قیمت ہیں۔ حواشی کی زبان بھی سادہ اور دل کش ہے۔ حواشی کے اکثر مختصر فقرے اتنے جامع ہیں کہ ان میں بہت سے پھیلے ہوئے مضامین کو بڑی فن کاری اور کمالِ حکمت کے ساتھ سمیٹ لیا گیا ہے۔ اگر ان میں فکر و تدبّر سے کام لیا جائے تو کتنے ہی علمی گوشے سامنے آسکتے ہیں، جو شاہ صاحب کے ذہنی کمال اور بیداریٔ دل کا پتہ دیں گے۔‘‘  ۳۳؎

مولانامحمد فاروق خاں نے اپنی کتاب’شاہ عبد القادر کی قرآن فہمی‘ میں بتیس(۳۲) ذیلی عناوین کے تحت شاہ صاحب کے چوہتّر(۷۴) ’فوائد‘ کی معنویت پر روشنی ڈالی ہے اور ان کی تشریح کی ہے۔ذیل میں چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں، جن سے ان کی اہمیت کا اندازہ ہوگا:

٭  قرآن کریم میں ایک جگہ ہے:

قُلْ أَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُونَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْأَرْضَ فِیْ یَوْمَیْْنِ وَتَجْعَلُونَ لَہُ أَندَاداً ذٰلِکَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ وَجَعَلَ فِیْہَا رَوَاسِیَ مِن فَوْقِہَا وَبَارَکَ فِیْہَا وَقَدَّرَ فِیْہَا أَقْوَاتَہَا فِیْ أَرْبَعَۃِ أَیَّامٍ، سَوَآئً  لِّلسَّائِلِیْنَ، ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَائ۔ ( حم السجدۃ:۹۔۱۱)

اور دوسری جگہ ہے:

أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقاً أَمِ السَّمَائُ،  بَنٰہَا، رَفَعَ سَمْکَہَا فَسَوّٰہَا، وَأَغْطَشَ لَیْْلَہَا وَأَخْرَجَ ضُحٰہَا، وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰہَا (النازعات:۲۷۔۳۰)

اوّل الذکر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمین بنائی گئی، اس کے بعد آسمان، لیکن مؤخر الذکر آیت سے اشارہ ملتا ہے کہ پہلے آسمان کی تخلیق ہوئی، بعد میں زمین کی۔ مولانا نے جو مختصر ’فائدہ‘ سورۂ نازعات کی مذکورہ آیت کے ذیل میں لکھا ہے اس سے ظاہری تعارض رفع ہو جاتا ہے۔فرماتے ہیں :

’’ سورۂ فصّلت، یعنی (حم)سجدہ میں آسمان کو پیچھے کہا، یہاں زمین کو پیچھے، سو یہاں آسمان کا بنانا ہے اونچا اور دن رات ٹھہرانا۔ یہ شاید زمین سے پہلے ہو۔ وہاں ان کو سات کرنا بانٹ کر، پھر ہر ایک میں جدا دستور چلانا، شاید زمین کے پیچھے ہو۔‘‘

٭  یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُونِ أُمَّہٰتِکُمْ خَلْقاً مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلَاثٍ( الزمر:۶)

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ انسانوں کی تخلیق ان کی ماؤں کے پیٹ میں ’تین تاریکیوں ‘ یعنی پردوں میں ہوتی ہے۔ان سے کیا مراد ہے؟اس کی وضاحت حاشیہ میں یوں کی ہے:

’’ایک پیٹ،ایک رحم، ایک جھلّی۔وہ جھلّی ساتھ نکلتی ہے۔‘‘

٭ أَلَمْ تَرَ إِلَی رَبِّکَ کَیْْفَ مَدَّ الظِّلَّ، وَلَوْ شَآئَ  لَجَعَلَہُ سَاکِناً ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْْہِ دَلِیْلاً، ثُمَّ قَبَضْنٰہُ إِلَیْْنَا قَبْضاً یَسِیْراً (الفرقان:۴۵۔۴۶)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سایہ کو بہ طور اپنی ایک نشانی کے پیش کیا ہے۔ اس کے بارے میں وہ فرماتا ہے کہ سایے کو وہ بڑھاتا ہے، پھر اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت وہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں :

’’اوّل ہر چیز کا سایہ لمبا پڑتا ہے،پھرجس طرف سورج چلتا ہے اس کے مقابل سایہ ہٹتا ہے، جب تک کہ جڑ میں آلگے۔ اپنی طرف کھینچ لیا یہ کہ اپنی اصل کو جا لگتا ہے۔ سب کی اصل اللہ ہے۔‘‘

٭ إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْْئٍ (الانعام:۱۵۹)

اس آیت میں پیغمبر کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہوں میں تقسیم ہوگئے، تمھارا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین کی کن باتوں میں اختلاف ہو سکتا ہے اور کن میں نہیں ؟ اس کا جواب وہ اپنے حاشیہ میں ان الفاظ میں دیتے ہیں :

’’دین میں جو باتیں یقین لانے کی ہیں ان میں فرق نہ چاہیے اور جو کرنی ہیں اس کے کئی طریقے ہوں تو برا نہیں۔ ‘‘

٭  إِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّئَآتِ  (ھود:۱۱۴)

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ اس کے مختلف پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاہ صاحب فرماتے ہیں :

’’ نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو تین طرح:جو نیکیاں کرے اس کی برائیاں معاف ہوں اور جو نیکیاں پکڑے اس سے خو برائیوں کی چھوٹے اور جس ملک میں نیکیوں کا رواج ہو وہاں ہدایت آوے اور گم راہی مٹے۔ لیکن تینوں جگہ وزن چاہیے۔ جتنا میل اتنا صابون۔‘‘

٭ أَفِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا (النور:۵۰)

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ منافقین کے دلوں میں مرض ہے اور وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ مرض سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں :

’’ دل میں روگ یہ کہ خدا اور رسول کو سچ مانا، لیکن حرص نہیں چھوڑتی کہ کہے پر چلیں۔ جیسے بیمار چاہتا ہے چلے اور پاؤں نہیں اٹھتا۔‘‘

٭ وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً  (الفرقان:۲۰)

اس آیت میں پیغمبر کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تجھے دوسرے پیغمبروں کی طرح انسان بنایا ہے۔ پھر فرمایا ہے کہ ہم نے تم لوگوں کوایک دوسرے کے لیے وجہ آزمائش بنایا ہے۔آزمائش کس چیز میں ہے؟ اس کی وضاحت شاہ صاحب نے حاشیہ مین ان الفاظ میں کی ہے:

’’ پیغمبر ہیں کافروں کا ایمان جانچنے کو اور کا فر ہیں پیغمبروں کا صبر جانچنے۔‘‘

 ٭  وَلَقَدْ آتَیْْنَا لُقْمَانَ الْحِکْمَۃَ  (لقمان:۱۲)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی۔ حکمت سے کیا مراد ہے؟ شاہ صاحب نے حاشیہ میں اس کی وضاحت یوں کی ہے:

’’ اللہ نے ان کو حکمت دی، یعنی عقل کی راہ سے وہ باتیں کھولیں جو موافق ہوں پیغمبروں کے حکم کے۔ ‘‘

٭  وَالضُّحَی، وَاللَّیْْلِ إِذَا سَجَی، مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی (الضحیٰ:۱۔۳)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دھوپ اور رات کی قسم کھاکر اپنے پیغمبر سے فرمایا ہے کہ تیرے رب نے تجھے چھوڑ نہیں دیا ہے۔ دونوں میں کیا ربط ہے؟ اس وضاحت شاہ صاحب حاشیہ میں ان الفاظ میں کرتے ہیں :

’’ پہلے قسم فرمائی دھوپ روشن کی اور رات اندھیری کی، یعنی ظاہر میں اللہ کی دو قدرتیں ہیں اور باطن میں کبھی چاندنا ہے کبھی اندھیرا۔ دونوں اللہ کے ہیں۔ اللہ سے دور کبھی نہیں بندہ۔‘‘

٭  إِنَّ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْعِلْمَ مِن قَبْلِہِ إِذَا یُتْلَی عَلَیْْہِمْ یَخِرُّونَ لِلأَذْقَانِ سُجَّداً، وَیَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولاً، وَیَخِرُّونَ لِلأَذْقَانِ یَبْکُونَ وَیَزِیْدُہُمْ خُشُوعاً (بنی اسرائیل:۱۰۷۔۱۰۹)

ان آیت میں کہا گیا ہے کہ اہلِ علم کے آگے جب اللہ کی آیات پیش ہوتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ ان میں ’  یَخِرُّونَ لِلأَذْقَان‘ِ کی تکرار ہے، یعنی دو مرتبہ سجدہ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کی کیا معنویت ہے؟ شاہ صاحب لکھتے ہیں :

’’ نماز میں سجدہ دو بار ہوتا ہے۔اس واسطے دو بار فرمایا۔ پہلی بار اس کلام کی تاثیر سے تعجب آتا ہے اور دوسری بار عاجزی سے۔‘‘

٭ قَالَ یَا إِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَی َّ (ص ٓ:۷۵)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے مکالمہ کے ذیل میں مذکورہے کہ اللہ نے ابلیس سے سوال کیا کہ تو نے آدم کو سجدہ کیوں نہیں کیا، جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ یہاں ’ دو ہاتھوں ‘ کی صراحت سے کیا بات کہنی مقصود ہے؟ شاہ صاحب لکھتے ہیں :

’’ دو ہاتھوں سے، یعنی بدن کو ظاہر کے ہاتھ سے اور روح کو غیب کے ہاتھ سے۔ اللہ غیب کی چیزیں بناتا ہے ایک طرح کی قدرت سے اور ظاہر کی چیزیں ایک طرح کی قدرت سے۔ اس انسان میں دونوں طرح کی قدرت خرچ کی۔‘‘

٭ وَإِذْ أَخَذَ اللّہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْْنَ لَمَآ آتَیْْتُکُم مِّن کِتٰبٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاء کُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنصُرُنَّہُ (آل عمران:۸۱)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ایک’ میثاق‘(عہد )کا تذکرہ ہے۔ مفسرین میں اختلاف ہے کہ یہ میثاق کس سے لیا گیا تھا؟ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ یہ انبیاء سے لیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا تھا کہ جب اگلا نبی آئے گا تو وہ اس پر ایمان لائے گا اور اس کی مدد کرے گا۔ یہ عہد اگرچہ ظاہر میں ہر نبی سے لیا گیا تھا، لیکن مراد اس پر ایمان لانے والے لوگ تھے۔ اس آیت پرشاہ صاحب کے مختصر حاشیہ سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ عہد بنی اسرائیل سے انبیاء کے سلسلے میں لیا گیا تھا۔ لکھتے ہیں :

’’ اللہ نے اقرارلیا نبیوں کا، یعنی نبیوں کے مقدمہ میں بنی اسرائیل سے اقرارلیا۔‘‘

٭ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَن فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَن فِیْ الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْْہِ الْعَذَابُ (الحج:۱۸)

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کے آگے سر بہ سجود ہے اور انسانوں میں سے بہت سے اسے سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے سجدہ نہیں کرتے۔ سجدہ سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت شاہ صاحب ان الفاظ میں کرتے ہیں :

’’ ایک سجدہ ہے کہ سب اس میں شامل ہیں، آسمان زمین میں جو کوئی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کی قدرت میں بے بس ہیں اور ایک سجدہ ہے ہر ایک کا جدا۔ وہ یہ ہے کہ اس کو جس کام کا بنایا اس کام میں لگے۔ یہ بہت آدمی کرتے ہیں، بہت نہیں کرتے اور خلق سارے کرتے ہیں۔ ‘‘

اسرائیلیات سے اثر پذیری

کتبِ تفسیر میں عام طور پر اسرائیلی روایات پائی جاتی ہیں۔ بہت کم مفسرین اس سے بچ سکے ہیں۔ شاہ عبد القادرؒ کے حواشی میں بھی کہیں کہیں اسرائیلیات سے ان کی اثر پذیری کا اظہار ہوتا ہے۔چند مثالیں درج ذیل ہیں :

٭  آیت  فَلَمَّا رَأَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً وَکَشَفَتْ عَن سَاقَیْْہَا (النمل:۴۴) کے ذیل میں ملکۂ سبا کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’ حضرت سلیمان ؑنے سنا تھا کہ اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں بکری کی طرح۔ اس طرح معلوم کر لیا کہ سچ تھی۔ اس کی دوا تجویز کی، جسے نورہ کہتے ہیں۔ وہ پری کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھی۔ یہ اثر اس کا تھا۔‘‘ ۳۴؎

 ٭  وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاہُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہُ وَخَرَّ رَاکِعاً وَأَنَابَ(ص ٓ:۲۴)

وہ آزمائش کیا تھی جس کا تذکرہ اس آیت میں کیا گیا ہے؟اس آیت کے ذیل میں بعض دیگر مفسرین کی طرح شاہ صاحب نے بھی لکھ دیا ہے کہ ہم سایہ کی ایک عورت پر حضرت داؤد علیہ السلام کی نظرپڑ گئی۔ چاہا کہ اس کو بھی گھر میں رکھیں۔ اس کا شوہر ان کے لشکر میں تھا۔ انھوں نے اسے محاذ پر آگے بھیج دیا، جہاں وہ شہید ہو گیا،تب انھوں نے اس عورت سے نکاح کرلیا۔ ۳۵؎

  ٭ وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثاً فَاضْرِب بِّہِ وَلَا تَحْنَثْ(ص ٓ:۴۴)

اس آیت کے ذیل میں شاہ صاحب نے لکھا ہے:’’مرض میں خفا ہوکر قسم کھائی تھی کہ اپنی عورت کو سو لکڑیاں ماریں اگر چنگے ہوں۔ وہ بی بی اس حال کی رفیق تھی اور بے تقصیر۔ اللہ تعالیٰ نے قسم اس طرح سچ کروائی۔‘‘ ۳۶؎

نامانوس، مشکل اور متروک الفاظ

شاہ عبد القادر کا ترجمہ اگرچہ آسان اور عام فہم ہے، لیکن اس میں ہندی اور سنسکرت کے بھی خاصے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی نے اس کی یہ توجیہ کی ہے:

’’ شاہ عبد القادر نے اپنے اردو ترجمہ میں ہندی اور سنسکرت کے خاص خاص الفاظ استعمال کیے، حالاں کہ اس دور کی اردو نظم و نثر کے نمونے یہ بتاتے ہیں کہ ہندی الفاظ کا استعمال اس وقت اتنا عام نہ تھا، صرف ہندو طبقہ میں ان لفظوں کا رواج ہوگا، لیکن شاہ صاحب کہیں کہیں چھانٹ کر اونچے اور مشکل ہندی الفاظ کے ذریعے قرآن کا مفہوم بیان کرتے ہیں اور اس کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم طبقہ قرآن کے پیغام سے قریب ہو۔‘‘ ۳۷؎

موضح قرآن میں بہت سے متروک الفاظ پائے جاتے ہیں۔ دو سو برس قبل تو ان کا چلن تھا، لیکن آہستہ آہستہ ان کا استعمال ختم ہوتا گیا، اگرچہ ملک کے بعض حصوں میں اب بھی انھیں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے چند الفاظ درج ذیل ہیں :

چپڑ جانا۔الوپ ہوجانا۔چیتو گے۔ سینیں چلانا۔ توڑا پڑ جانا۔ پیٹھنا۔ کھدیڑنا۔ بندی خانہ۔ جڑاول۔ راچھ۔ تھانک۔ چٹّا۔ پندا۔ بیورا۔ پہراوا۔ بھینٹ۔ بھینٹا۔ نرادھار۔ گہہ گرہ۔ چٹّی۔

پورے ترجمۂ قرآن میں اس قسم کے معدودے چند الفاظ ہوں گے، ورنہ شاہ صاحب کی عام زبان اور ترجمہ کی عام عبارت بہت سہل اور عام فہم ہے۔

بعض حضرات نے ایسے مشکل الفاظ کی فہرستیں تیار کی ہیں۔ سب سے پہلے سید عبد اللہ لاہوری نے ۱۲۴۵ھ؍ ۱۸۲۹ء میں مشکل ہندی الفاظ کی ایک فہرست تیار کی اور اسے ترجمۂ قرآن مجید کے ساتھ ہر پندرہ پاروں کے بعد شائع کیا۔ یہ فہرست ایک سو تین(۱۰۳) الفاظ پر مشتمل تھی۔ ۱۳۱۵ھ؍ ۱۸۹۷ء میں مولانا سید احمد حسن دہلوی نے شاہ ولی اللہ ؒ کا فارسی ترجمہ اور ان کے دونوں صاحب زادوں کے اردو ترجمے ایک ساتھ شائع کیے اور ان کے ساتھ مشکل الفاظ کی ایک فہرست بھی شامل کی، جس میں پہلی فہرست پر کچھ اضافہ ہے۔ ۳۸؎  تیسری فہرست مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی نے تیار کی۔ ان کے مطابق تین سو پچاس(۳۵۰) الفاظ ایسے نکلے جو اگرچہ بالکل متروک تو نہیں ہیں، البتہ اب عام بول چال میں نہیں رہے ہیں۔ ۳۹؎

 شاہ صاحب نے مشکل اور علمی الفاظ کی تشریح میں قارئین کو کتبِ لغت کا محتاج نہیں بنایا ہے، بلکہ خود ہی ان کی تشریح کردی ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں : یا تو ترجمہ کے مشکل الفاظ کی تشریح ’فوائد‘ میں کردی ہے، یا مختلف مقامات پر ہم معنیٰ الفاظ کی تشریح میں اردو اور ہندی کے الگ الگ الفاظ استعمال کیے ہیں، جس سے مشکل الفاظ کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔

ما بعد تراجم پرموضح ِقرآن کے اثرات

شاہ عبد القادرؒکے ترجمۂ قرآن کو دو سو پینتیس (۲۳۵)برس گزر چکے ہیں۔ ان کے بعد جن لوگوں نے بھی قرآن کا اردو ترجمہ کیا ہے انھوں نے شاہ صاحب کا اثر قبول کیا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے، جو خود بھی مترجمِ قرآن ہیں، اپنے مخصوص انداز میں اس اثر پذیری کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:

’’ جب ایک خاندان کے ایک چھوڑ تین تین ترجمے لوگوں کو مل گئے: ایک فارسی مولانا شاہ ولی اللہ صاحب ؒ کا، دو دو اردو: ایک شاہ عبد القادر صاحبؒ کا اور ایک شاہ رفیع الدین صاحبؒ کا، تو اب ہر ایک کو ترجمہ کا حوصلہ  ہو گیا۔ مگر خاندن شاہ ولی اللہؒ کے سوا کوئی شخص مترجم ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ وہ ہرگز مترجم نہیں، بلکہ مولانا شاہ ولی اللہ صاحبؒ اور ان کے بیٹوں کے ترجموں کا مترجم ہے کہ انہی ترجموں میں اس نے ردّوبدل، تقدیم و تاخیر کرکے جدید ترجمہ کا نام کردیا ہے۔‘‘۴۰؎

خواجہ عبد الحی، استاد تفسیر و ناظم دینیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی فرماتے ہیں :

’’ حضرت شاہ ولی اللہ قدّس سرّہ کو یہ اوّلین فخر حاصل ہے کہ انھوں نے ظلمت آباد ہند میں ترجمۃ القرآن کی بنیاد رکھی اور مسلمانوں کو پھر اس چشمۂ حیات کی طرف لے آئے جو عربی سے ناواقف ہونے کی بنا پر اللہ کی کتاب سے بُعد و ہجر اختیار کر چکے تھے۔ اس کے بعد ان کے مایۂ روزگار فرزند ِسعید حضرت شاہ عبد القادرؒنے اس کو اردو کا جامہ پہنا کر بقائے دوام کا زرّیں تاج اپنے سر پر رکھا اور بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ آج سرزمینِ ہند میں قرآن مجید کے جس قدر تراجم ملتے ہیں سب کے سب اسی موضح قرآن کے خوشہ چین ہیں۔ ۴۱؎

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے’موضح الفرقان‘ کے نام سے قرآن کا ترجمہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ترجمۂ قرآن کے مقدمے میں صاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ ان کا ترجمہ شاہ عبد القادر ؒ کے ترجمہ کی تیسیر و تسہیل ہے۔انھوں نے شاہ صاحب کے ترجمۂ قرآن(سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کے پہلے رکوع) کا تجزیہ کرکے ان کے اسلوبِ ترجمہ کی وضاحت کی ہے۔ لکھتے ہیں :

’’ہر چند ترجمہ تحت لفظی میں بعض خاص فائدے ہیں، مگر ترجمہ سے جو اصلی فائدہ اور بڑی غرض یہ ہے کہ ہندوستانیوں کو قرآن شریف سمجھنا آسان ہو جائے، یہ غرض جس قدر با محاورہ ترجمہ سے حاصل ہو سکتی ہے، تحت لفظی ترجمہ سے کسی طرح ممکن نہیں۔ چنانچہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ، جو با محاورہ ترجمہ کے بانی اور امام ہیں، انھوں نے با محاورہ ترجمہ کو اختیار فرمانے کی یہی وجہ بیان کی ہے اور یہی وجہ ہے جو اسلاف ممدوحین کے بعد اس زمانے میں جس نے اس میدان میں قدم رکھا اس نے جناب شاہ صاحب کا اتباع کیا اور با محاورہ ترجمہ کرنے کو اختیار کیا۔‘‘ ۴۱؎

 شیخ الہند کے ترجمے کے ساتھ مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے جو تفسیری فوائد لکھے ہیں ان میں بھی انھوں نے اکثر جگہ شاہ صاحب کے فوائد کو اپنے الفاظ میں لکھ دیا ہے اور ان کی تشریح بڑے اچھے انداز میں کر دی ہے۔کہیں کہیں موضح قرآن کا حوالہ دے دیا ہے، ورنہ اکثر جگہ بغیر حوالہ کے ان کی عبارت کو اپنی عبارت میں سمو لیا ہے۔

اس تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید کے اردوترجمہ کے میدان میں شاہ عبدالقادرؒ کے ترجمۂ قرآن کو’ امّ التراجم ‘کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے بعد آنے والے تمام مترجمین نے اس سے فیض اٹھایا ہے اور اس کی مدد سے اپنے ترجمے کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

حواشی و مراجع

1۔       محاسن موضح قرآن،مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی،ادارہ رحمت عالم، شیخ چاند اسٹریٹ، لال کنواں دہلی،۱۹۷۶ئ،ص۱۹

2۔       حوالہ سابق،ص۱۹، بہ حوالہ لال قلعہ کی ایک جھلک،ناصر نذیر،ص۶۳، مطالعۂ مومن،عرش گیاوی،ص۲۳۷

3۔       آثار الصنادید،سید احمد خاں، مرتب: خلیق انجم، اردو اکادمی دلّی،۱۹۹۰ئ، طبع اول،ص۳۴۹

4۔       واقعات دار الحکومت دہلی، بشیر الدین احمد، اردو اکادمی دہلی،۱۹۹۰ئ، ۲؍۱۴۰

5۔       شاہ عبد القادر کی قرآن فہمی،مولانا محمد فاروق خاں، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی،۱۹۹۱ئ،ص۱۳

6۔       تاریخ دعوت و عزیمت، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، ۱۹۸۴ء، طبع اول۵؍۳۸۵۔۳۸۶،آثار الصنادید، سید احمد خاں، ۲؍۷۹،۸۶، ۸۷، ۹۱،۱۱۵،۱۱۶

7۔       آثار الصنادید،۲؍۸۵

8۔       ارواح ثلاثہ،مولانا اشرف علی تھانوی، مکتبہ عمر فاروق، کراچی،۲۰۰۹،ص۴۴

9۔      قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ ۱۹۱۴ء تک، ڈاکٹر سید حمید شطاری، طبع حیدر آباد، ۱۹۸۲ئ،ص۱۴۴

10۔    مستندموضح قرآن مع فوائد، حضرت مولانا شاہ عبد القادر محدث دہلوی، تصحیح و تشریح مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی، سعید کمپنی کراچی،ص۳۲

11۔    قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ،ص۱۵۹

12۔    متعدد سوانح نگاروں نے مطبع احمدی دہلی لکھا ہے، لیکن مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی کی تحقیق یہ ہے کہ یہ مطبع کلکتہ میں تھا۔ملاحظہ کیجیے :محاسن موضح قرآن،ص۳۴

13۔    قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ،ص۱۵۹، اردو دائرہ معارف اسلامیہ،دانش گاہ پنجاب لاہور،۱۹۷۳ئ،۱۲؍۹۳۵

14۔    محاسن موضح قرآن، ص ۷ ۷۔ ۱ ۸

15۔    قرآن حکیم کے اردو تراجم: تاریخ، تعارف، تبصرہ، تقابلی جائزہ، ڈاکٹر صالحہ عبد الحکیم شرف الدین، قدیمی کتب خانہ کراچی، سنہ طبع ندارد، ص۱۷۶

16۔    محاسن موضح قرآن،ص۸۲

17۔    عکسی قرآن مجید مترجم و محشی،حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن و حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، مدینہ پریس بجنور،ص۴

18۔    قدیم اردو، مولوی عبد الحق، انجمن ترقی اردو پاکستان،۱۹۶۱ئ،ص۱۳۲۔۱۳۳

19۔    قرآن حکیم کے اردو تراجم،ص۱۹۰

20۔    محاسن موضح قرآن،ص۴۹

21۔    شاہ عبد القادر کی قرآن فہمی،ص۲۱

22۔    معارف القرآن،مولانا مفتی محمد شفیع،مکتبہ معارف القرآن کراچی، ۲۰۰۸ئ، ۱؍۶۸(مختصر سرگزشت مصنف)

23۔    مکاتیب ابو الکلام آزاد، اردو اکیڈمی کراچی سندھ، ۱۹۷۰ء

24۔ حیات ولی، ابو محمد رحیم بخش دہلوی،حضرت شاہ ولی اللہ پبلک لائبریری دہلی۔ ۶، ۲۰۰۸ئ، ص۳۶۹۔۳۷۰

25۔    تاریخ دعوت و عزیمت،۵؍۳۸۶

26۔    شاہ ولی اللہ کی قرآن فہمی، ص۱۹۔۲۰

27۔    عکسی قرآن مجید مترجم و محشی،حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن و حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، مدینہ پریس بجنور،ص۴

28۔    مولانا مودودیؒ نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے اور شاہ صاحب کے اس ترجمے کی تحسین کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:تفہیم القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی،۴؍۵۵۳۔۵۵۴

29۔    مولانا حمید الدین فراہیؒ نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے اور اس پر احادیث اور کلامِ عرب سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے تفسیر نظام القرآن،دائرۂ حمیدیہ، سرائے میر، اعظم گڑھ، ۱۹۹۶ئ، ص۱۷۴۔۱۷۶

30۔    قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ،ص۱۷۷

31۔    مستند موضح قرآن،ص ۳۲

  32۔    محاسن موضح قرآن،ص۵۵

33۔    شاہ عبد القادر کی قرآن فہمی، ص۲۳۔۲۴

 34۔    مستند موضح قرآن،ص۴۹۳

35۔    حوالہ سابق،ص ۵۸۹

     36۔    حوالہ سابق،ص ۵۹۱

37۔    حوالہ سابق،ص۳۱

        38۔    حوالہ سابق،باب سوم،ص۱۰

39۔    حوالہ سابق،باب سوم،ص۱۱

     40۔    ترجمہ قرآن ڈپٹی نذیر احمد، مقدمہ

41۔    قرآن حکیم کے اردو تراجم،ص۱۹۱

42۔    عکسی قرآن مجید مترجم و محشی،حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن و حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، مدینہ پریس بجنور،ص۱

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button