اسلامیات

کورونا وائرس کے تعلیمی میدان پر اثرات

عَطِيَهْ رَبِّىْ بِنْتِ فَرْحَاْن حُسَيْن

جب سے اس عالمِ رنگ و بو کا وجود عمل میں آیا تب سے تاریخ اس بات کی شاہد ہے کی ہر دور میں بنی نوع انسان نت نئی ترقی کے مراحل طئے کرتا گیا. یہ قدرت کا اصول ہے کہ جب جب انسان نے قدرت کی خلاف ورزی کی تو اس کو منہ کی کھانی پڑی.. کورونا نامی وبا اس بات کی دلیل ہے… موجودہ دور کا کمزور ترین ملک ہو یا سپر پاور ملک سب اس وائرس کے سامنے بے بس و لاچار ہوچکے ہیں.. ساری دنیا اس وبا سے بچاؤ کے لئے نت نئے تریقے آزمانے میں مشغول ہے.. جہاں پر معاشی ہو یا سیاسی، سماجی ہو یا ثقافتی شعبے خمیازہ بھگت رہے ہیں ٹھیک اسی طرح اس وبا کے مضر اثرات تعلیمی شعبے پر بھی نمایاں نظر آرہے ہیں…
شاعر کہتا ہے،
ایک وبا پھیلی ہے قیامت جیسی
غور کرنے پہ لگا ہے وہ عنایت جیسی
زہر آلود فضائیں ہیں اس وبا سے
کتنا بکھراؤ ہے گلشن میں اس وبا سے

مارچ 2020 سے تمام تعلیمی ادارے بند ہوچکے ہیں.. حکومت نے جو بذریعہ آنلائن تعلیمی عرصے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا مگر افسوس کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے اس سلسلہ کو منقطع کر دیا… الغرض ٹاپرز طلبہ کے اندر بھی تعلیم کو لے کر پہلے جیسا شوق، لگن، جذبہ، یکسوئ، دلچسپی اور محنت کا رجحان کم ہوتا نظر آرہا ہے.. متحرک طلبہ بھی جمود کا شکار ہوگئے…

نوجوان نسل ایک قوم کی معمار ہوتی ہے.. نوجوانانِ قوم ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ اور بنیادی حیثیت کے حامل ہیں… گر یہ کمزور رہی تو قوم و ملک کے ڈھے جانے کا اندیشہ لگا رہتا ہے… قوموں کا عروج و زوال ملت کے نوجوانوں پر منحصر ہوتا ہے آج لاتعداد تعلیم یافتہ نوجوان وائرس کی وجہ سے بےروزگار ہوکر رہ گئے ہیں.. آئے دن گرتی ہوئی تعلیمی کیفیت ہمارے خوفناک مستقبل کا حال بیان کرتی ہے…

تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے مختلف طریقۂ کار استعمال میں لائے گئے بقول اس کہاوت کے کہ "ضرورت ایجاد کی ماں ہے” زیادہ تر ادارے وقت اور بڑی سرمایہ کاری نا ہونے کی بنا پر اپنی تعلیمی عمل میں ڈیجیٹل آلات کو شامل کرنے سے گریز کرتے رہے لیکن اب وہ ٹیکنالوجی کی کشتی میں سوار ہونے کے لئے ہاتھ پیر مار رہے ہیں…

کورونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے وہیں اس نے اساتذہ کی صلاحیتوں کو چیلنج بھی کیا ہے کہ وہ کس طرح اس مشکل وقت میں اپنے طلبہ و طالبات کو اس قدر بہتر تعلیم فراہم کر سکیں جس سے بچوں کے والدین کی توقعات پوری ہوں… لیکن واقعی اساتذہ پر آفرین ہے جنہوں نے اس قدر چیلنجنگ ماحول میں بھی اپنا کردار نمایاں طور پر ادا کرنے کی حتی الامکان کوشش کی….

ریاستِ مہاراشٹر کی وزیرِ تعلیم ورشا گائیکواڑ نے ناسازگار حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے امسال بورڈ ایگزامس کو رد کردیا گیا… لیکن ہم طالب علموں کا فرض ہے کہ حکومت نے ہمیں جو رعایت بخشی ہے اس کے مضر اثرات کا سایہ اپنے مستقبل پر پڑنے نہ دیں…

میں عطیہ ربی دہم جماعت کی طالبہ ہونے کے ناطے میرا تمام نوجوان بہنوں سے یہ مشورہ ہے کہ کورونا وائرس کی آڑ میں اپنی تعلیمی لیاقت کو پسپا نا ہونے دیں.. ہمارا فرض ہے کہ اپنی ذاتی پڑھائی پر توجہ دیں… گرچہ ہمیں ٹکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ جانے پر افسوس ضرور ہے لیکن ہمیں اس کے ساتھ امید ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس آزمائشی وبا پر سبقت پالیں گے.. انـشــــاء الــــــلَّـــــــہ

تدبیر کے دستِ زریں سے تقدیر درخشاں ہوتی ہے
قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوششِ انساں ہوتی ہے

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button